’میں گھر واپس نہیں جاؤں گی‘

Image caption وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ یہ بچی ایک معروف طالبان کمانڈر کی بہن ہے

افغانستان کے صوبہ ہلمند میں خودکش جیکٹ پہنے ہوئے پکڑی جانے والی افغان بچی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے خاندان نے انہیں پولیس کی چوکی پر حملہ کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ان پر تشدد کیا تھا۔

دس سال عمر کی تصور کی جانے والی سپوژمائی نے کہا کہ اس کے بھائی نے اسے مارا پیٹا اور پھر بارود سے بھری ہوئی جیکٹ پہننے کا حکم دیا۔ بچی نے بتایا کہ وہ جیکٹ پہننے کے بعد خوفزدہ تھی مگر اس کے بھائی نے اسے یقین دلایا تھا کہ اس کی جان نہیں جائے گی بلکہ صرف وہ لوگ مریں گے جنہیں نشانہ بنایا جائے گا۔

سپوژمائی نے ٹیلی فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ کہ وہ گھر واپس نہیں جائے گی کیونکہ اس کا انجام برا ہوگا۔

یاد رہے کہ افغانستان میں وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے منگل کے روز بی بی سی کو بتایا تھا کہ اتوار کی شب ہلمند کے صوبے میں ایک بچی پکڑی گئی ہے جو خودکش جیکٹ پہنے سرحدی پولیس کی چوکی پر حملہ کرنے والی تھی۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ یہ بچی ایک معروف طالبان کمانڈر کی بہن ہے اور گرفتاری کے وقت وہ تزبذب اور پریشانی کے عالم میں تھی۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ یہ بچی خود کش جیکٹ کا بم پھاڑنے کے بٹن کا استعمال نہ کر سکی ہو یا پھر اسے اس سے پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا ہو۔

سپوژمائی نے کہا ہے کہ ’اگر حکومت بھی کہے کہ وہ میری حفاظت کی ضمانت دیتے ہیں، تب بھی میں واپس نہیں جاؤں گی کیونکہ میرے ساتھ پھر ویسا ہی ہوگا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’انہوں نے مجھے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر میں پہلی مرتبہ میں ایسا نہیں کرتی تو وہ مجھ سے دوبارہ یہی کروائیں گے۔ میرے والد یہاں آئے اور گھر واپس جانے کو کہا مگر میں نے منع کردیا اور میں نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ جانے کے بجائے اپنے آپ کو مارلوں گی۔ میں پورے گھر کی صفائی کرتی تھی مگر وہ پھر بھی خوش نہیں ہوتے تھے۔ وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے تھے جیسے میں کوئی غلام ہوں۔‘

گذشتہ ہفتے سپوژمائی نے افغان صدر حامد کرزئی سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں واپس نہیں جانا چاہتی۔ خدا نے مجھے خودکش حملے آور نہیں بنایا۔ میں صدر سے التجا کرتی ہوں کہ مجھے کسی اچھی جگہ پر منتقل کر دیا جائے۔‘

صدر کرزئی نے اس واقعے پر طالبان کی مذمت کی ہے تاہم طالبان نے اس معاملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

اسی بارے میں