گائے کے ڈی این اے ٹیسٹ کا عدالتی حکم

Image caption مدعی گیتا اپنی ایک گائے کے ساتھ یہاں نظر آ رہی ہیں۔ اس علاقے میں زیادہ تر کسان آباد ہیں اور مویشی ان کی زندگی کا اہم جزو ہیں

جنوبی بھارت کی ریاست کیرالہ میں مالکانہ حقوق کے فیصلے کے لیے ایک عدالت نے دو گایوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا ہے۔

کیرالہ کے ایک گاؤں کی عدالت میں گیتا نام کی ایک خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی گائے کو ان کی پڑوسن ٹی ایس سشی لیکھا نے غیرقانوني طور پر اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔

اس کے بعد عدالت نے گائے کے مالکانہ حق کے فیصلے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا یہ منفرد حکم دیا۔

عدالت نے کہا کہ اس گائے کے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ہی یہ معاملہ طے ہو سکتا ہے کہ گیتا کا دعویٰ کتنا سچ ہے کیونکہ گیتا نے کہا ہے کہ گیتا کے پاس ایک ایسی گائے ہے وہ اس متنازع گائے کی ماں ہے۔

معاملے کی جانچ کرنے والے پولیس افسر کا کہنا ہے کہ گائے کے خون کے نمونوں کو ریاستی دارالحکومت تری وندرم کے ایک تحقیقی ادارے راجیو گاندھی سینٹر فار بایو ٹیکنالوجی میں بھیج دیا گیا ہے اور نتائج کے بعد ہی اس بات کا فیصلہ ہو پائے گا کہ گیتا کے دعوے میں کتنی صداقت ہے۔

پولیس سب انسپکٹر جی راجو نے کہا ’اس معاملے میں تفتیش جاری ہے اور ہم ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

پولیس نے اس معاملے کو ’شاز و نادر‘ کے زمرے میں رکھا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ معاملہ نو مہینے قبل اس وقت شروع ہوا تھا جب گیتا نام کی خاتون نے عدالت میں اپنی پڑوسن سشی لیكھا پر گائے چوری کا الزام لگایا تھا۔

گیتا نے کہا ’ہمارے پاس تقریباً 15 گائیں ہیں اور ان میں سے كارتھیكا نامی ایک گائے کو ایک بچہ پیدا ہوا تھا اور بعد میں جنگل سے اس بچھیا کو میری پڑوسن نے چرا لیا۔‘

عدالت نے دونوں گایوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا تاکہ ان دونوں کا موازنہ کر کے کسی نتیجے پر پہنچا جا سکے۔

گیتا نے کہا ’مجھے صد فی صد امید ہے کہ نتائج میرے ہی حق میں آئیں گے اور اگر میرے حق میں نہیں آئے تو میں اعلیٰ عدالت میں اپیل کروں گي۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ملزم خاتون ڈی این اے ٹیسٹ روکنے کی کوشش کر رہی ہیں اور تفتیشی افسر کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

کیرالہ کے اس علاقے میں جہاں گیتا رہتی ہیں وہاں زیادہ تر لوگ کسان ہیں اور ان کی زندگی مویشیوں پر منحصر ہے۔

اسی بارے میں