ایران کے بارے میں خلیجی ممالک کی رائے منقسم

Image caption ہمیں ایران سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ایران کو ہم سے کوئی مسئلہ نہیں ہے: شیخ محمد بن راشد المکتوم

ددبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم ایران پر سے پابندیاں اٹھانے کے حق میں ہیں، لیکن یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات میں پانچ لاکھ ایرانی رہائش پذیر ہیں اور اس کے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم ہیں۔

شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بطور ہمسایہ ملک ایران پر سے پابندیاں اٹھ جائیں تو اس سے سب کو فائدہ ہو گا۔

’ہمیں ایران سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ایران کو ہم سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر وہ (ایران) امریکہ کے ساتھ متفق ہو جائیں اور اگر امریکہ پابندیاں اٹھانے پر متفق ہو جائے تو سب کو فائدہ ہو گا۔‘

لیکن یہ آرا خلیج میں دیگر عرب ممالک کی نہیں ہیں۔ کئی عرب ملک ایران کو اب بھی خطرہ سمجھتے ہیں۔

سعودی عرب نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ نہیں چاہتا کہ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں ایران پر سے پابندیاں اٹھائیں جائیں۔

سعودی عرب کے خیال میں پابندیوں کے باعث ایران کا اثر و رسوخ محدود ہو گیا تھا۔ سعودی عرب نے شام کے صدر بشار الاسد اور ایران کے حلیف شام کے خلاف باغیوں کی مدد کا بھی اعادہ کیا۔

دوسری جانب بحرین ایران پر الزام لگاتا ہے کہ تہران اس کے دیہات میں حکومت مخالف عناصر کی پشت پناہی کرتا ہے۔ بحرین اس وقت اس اسلحے کی تحقیقات کر رہا ہے جسے پچھلے دسمبر میں کشتی کے ذریعے بحرین لانے کی کوشش کی گئی تھی۔

متحدہ عرب امارات کی سات امارات میں سے ایک ابوظہبی کی ایران کے بارے میں رائے دبئی سے مختلف ہے۔ متحدہ عرب امارات کا دارالحکومت ہونے کے ناطے وہ ایران کے ساتھ تین متنازع جزیروں کا مسئلہ طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان جزیروں پر امارات اور ایران دونوں کا دعویٰ ہے لیکن قبضہ ایرانی سکیورٹی فورسز کا ہے۔

ایک سابق برطانوی سفارت کار کا کہنا ہے: ’دبئی اور ابو ظہبی کی رائے ایران پر ہمیشہ ہی سے مختلف رہی ہے۔ دبئی میں ایرانیوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور دبئی اور ایران کے درمیان تجارت بھی ہے اس لیے دبئی کی رائے ایران کے بارے میں مختلف ہے۔‘

عمان کی ایران کے بارے میں رائے بھی دبئی جیسی ہی ہے۔ عمان ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے تھے جس کے نتیجے میں جنیوا میں معاہدہ طے پانے میں مدد ملی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے برعکس عمان میں زیادہ تیل نہیں ہے، اسی لیے عمان کی خارجہ پالیسی ان سے مختلف ہے اور اسی ہی نے حال ہی میں ایران کی جانب امریکی قیدی کی رہائی میں مدد کی تھی۔

کچھ عرصے سے سعودی عرب خلیج تعاون کونسل میں زیادہ تعاون اور مشترکہ خارجہ پالیسی اور مشترکہ ڈیفنس فورس کے قیام پر زور دے رہا ہے۔

سعودی عرب کی اس کوشش کا مقصد ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے خلیج میں اسلامی انقلاب پھیلانے اور شیعہ اور سُنی مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت پھیلانے کی کوششوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

خلیج تعاون کونسل میں کویت، بحرین اور ابو ظہبی سعودی عرب کی تجویز کے حق میں ہیں لیکن قطر اس تجویز کو جانچ رہا ہے اور عمان نے یہ بات واضح کردی ہے کہ اگر دباؤ ڈالا گیا تو وہ خلیج تعاون کونسل چھوڑ دے گا۔

جہاں تک ایران کے حوالے سے دبئی کے حکمران کے بیان کا تعلق ہے تو اس سے صاف ظاہر ہو گیا ہے کہ دبئی کی پالیسی سیاست پر نہیں تجارت، کاروبار اور مواقع پر مبنی ہے۔

اسی بارے میں