’برمی فوج ریپ بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تنظیم کے مطابق ریپ کے زیادہ تر واقعات ان علاقوں میں ہوئے ہیں جہاں برمی فوج لسانی گروہوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے

برما میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کا کہنا ہے کہ برما کی فوج 2010 میں سویلیئن حکومت کے آنے کے بعد بھی ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔

ویمن لیگ آف برما نامی تنظیم کے مطابق ان کے پاس ایک سو ایسے کیس آئے ہیں جن میں فوج نے ریپ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ان کیسوں میں کچھ مثاثرہ بچوں کی عمر آٹھ برس ہے۔

تنظیم کے مطابق ریپ کے زیادہ تر واقعات ان علاقوں میں ہوئے ہیں جہاں برمی فوج لسانی گروہوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے۔

تاہم حکومت نے کہا ہے کہ ریپ کرنا فوج کی پالیسی نہیں ہے اور اگر ایسے واقعات پیش آئے ہیں ان واقعات کو رپورٹ کیا جائے۔

تنظیم کے مطابق ریپ کے زیادہ تر واقعات سرحدی علاقے کچن اور جنوبی شان ریاست میں پیش آئے ہیں۔ تنظیم نے مزید کہا ہے کہ رپورٹ کیے گئے ریپ کے واقعات میں سے آدھے گینگ ریپ تھے اور 28 خواتین کو یا تو مار دیا گیا یا پھر وہ زخموں کے باعث چل بسیں۔

ویمن لیگ آف برما کے مطابق: ’وسیع پیمانے پر اور منظم طریقے سے کیے جانے والے ریپ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریپ کو اب بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے: ’لسانی گروپوں کو تباہ کرنے کے لیے برمی فوج جنسی استحصال استعمال کر رہی ہے۔‘

برما کے صدارتی ترجمان نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ برمی فوج ’ریپ کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کرتی۔

’اگر کسی فوجی نے ایسی حرکت کی ہے تو وہ اس کا انفرادی فعل تھا اور ہم اس کی تحقیقات کریں گے اور سخت اقدامات کیے جائیں گے۔‘