’باہمی تجارت میں یکطرفہ طور پر بھارتی پلڑا بھاری‘

Image caption بنیادی طور پر دونوں سیکریٹریوں نے وزرائے تجارت کی ملاقات کے لیے ’ہوم ورک’ کیا

پاکستان نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ باہمی تجارت میں عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے ’عملی اقدامات‘ کرے کیونکہ اس کے مطابق باہمی کاروبار کا پلڑا یک طرفہ طور پر بھارت کی طرف جھکا ہوا ہے۔

بھارت اور پاکستان نے باہمی تجارت بڑھانے کے لیے بدھ کو دہلی میں سیکریٹریوں کی سطح پر مذاکرات کیے جس میں کاروبار کے حجم کو فروغ دینے کے ممکنہ طریقوں پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے سیکریٹری تجارت قاسم نیاز اور ان کے بھارتی ہم منصب ایس آر راؤ نے تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیا اور انہیں دور کرنے کے لیے دو ہزار بارہ تک ہونے والی پیش رفت پر نظرثانی کی۔

پاکستانی وفد نے کہا کہ باہمی تجارت میں پاکستان کا حصہ بہت کم ہے اور دونوں ملکوں کے تاجر طبقے کو’لیول پلئینگ فیلڈ’ یا یکساں مواقع فراہم کیے جانے چاہییں جس کے لیے بھارتی حکومت ’نیک نیتی کے ساتھ عملی اقدامات کرے’ کیونکہ پاکستان سے اشیا درآمد کرنے کی راہ میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔

دونوں ملک زمین کے راستے ہونے والی تجارت بڑھانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں پنجاب کے وزیر علی شہباز شریف نے بھی بھارت کے وزیر تجارت آنند شرما سے دسمبر میں بات چیت کی تھی۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ کاروبار کو فروغ دینا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس سے پہلے سیکریٹریوں کی سطح پر مذاکرات ستمبر دو ہزار بارہ میں ہوئے تھے

مذاکرات میں بینکنگ کے مسئلے پر بھی غور ہوا۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے بنکوں کو شاخیں کھولنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا لیکن ابھی تک اس سمت میں زیادہ پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

بات چیت کی تفصیلات باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی گئی ہیں لیکن بتایا جاتا ہے کہ بنیادی طور پر دونوں سیکریٹریوں نے وزرائے تجارت کی ملاقات کے لیے ’ہوم ورک’ کیا جو سنیچر کو ہونی ہے۔

پاکستان کے وزیر تجارت خرم دستگیر خان سارک کے ایک اقتصادی فورم میں شرکت کے لیے جمعرات کو دہلی پہنچ رہے ہیں اور اٹھارہ جنوری کو بھارتی وزیر آنند شرما سے ملاقات کریں گے۔

لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس ملاقات میں تجارت کے فروغ کے لیے کسی ٹائم لائن کا اعلان کیا جائے گا یا نہیں۔

اس سے پہلے سیکریٹریوں کی سطح پر مذاکرات ستمبر دو ہزار بارہ میں ہوئے تھے لیکن پھر گزشتہ برس جنوری میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کاسلسلہ شروع ہوگیا اور تب سے باہمی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

انڈیا کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ پاکستان اسے ’موسٹ فیورڈ نیشن’ یا ایم ایف این کا درجہ دے۔ پاکستان نے دسمبر 2012 تک بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ فیصلہ داخلی سیاسی تقاضوں کی نذر ہوگیا۔

بھارت نے پاکستان کو یہ درجہ 1996 میں ہی دیدیا تھا لیکن پاکستان کا موقف ہے کہ باہمی تجارت کو مجموعی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور ایم ایف این اس کا صرف ایک پہلو ہے۔

اسی بارے میں