دلی پولیس کو اروند کیجریوال کا چیلنج

اروِند کیجریوال تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’اگر دہلی پولیس کا رویہ وزرا کے ساتھ ایسا ہے تو عام عوام کے ساتھ کیسا ہوگا‘

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے دہلی پولیس پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی پولیس ریاست میں جرائم روکنے میں ان کی حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔

جمعرات کو دہلی سیکرٹیریٹ میں اپنے دو وزرا سومناتھ بھارتی اور راکھی بڑلا کے ساتھ پریس كانفرنس کرتے ہوئے کیجریوال نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کا رویہ وزرا کے ساتھ ایسا ہے تو عام عوام کے ساتھ کیسا ہوگا۔

کیجریوال نے سخت تیور دکھاتے ہوئے کہا: ’آج ہم مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ کہہ رہے ہیں کہ آپ ان تمام ایس ایچ اوز کو معطل کریں۔ اگر انھیں معطل نہیں کیا جاتا تو دہلی کے عوام خاموش نہیں بیٹھنے والے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اگر آپ کے سامنے جرم ہو رہا ہے تو کیا آپ نہیں چاہیں گے کہ پولیس کارروائی کرے؟ یہیں سے تو ریپ شروع ہوتے ہیں۔‘

دہلی کے وزیروں اور پولیس کے درمیان جھگڑے کے بارے میں کیجریوال نے کہا: ’دہلی پولیس کہہ رہی ہے کہ وزیر دخل دے رہے ہیں، جبکہ دہلی کے وزیر مطالبہ کر رہے ہیں کہ پولیس کارروائی کرے۔ تو کیا یہ ان کے کام کے اندر رکاوٹ ڈالنا ہے؟ اگر یہ رکاوٹ ڈالنا ہے تو پوری دہلی ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنے والی ہے۔‘

کیجریوال نے دہلی پولیس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: ’میں کل گورنر اور پولیس کمیشنر سے مل رہا ہوں اور وہاں سختی سے اپنی بات رکھنے والا ہوں۔‘

بدھ کی رات کو وزیر قانون سومناتھ بھارتی اور بچوں اور خواتین ترقی کی وزیر راکھی بڑلا اور دہلی پولیس کے درمیان کچھ معاملات پر جھگڑا ہوا تھا۔

سومناتھ بھارتی نے کہا کہ جنوبی دہلی کے کھڑکی توسیع علاقے میں لوگ ان سے کئی دنوں سے مبینہ طور پر جنسی ریکٹ چلنے کی شکایات کر رہے ہیں۔ جمعرات رات گئے بھی شکایت ملنے کے بعد وہ اپنے کچھ کارکنوں کے ساتھ وہاں پہنچے اور انھوں نے اپنی آنکھوں سے کچھ غلط کام ہوتے دیکھا۔

بھارتی کے مطابق ان کے بار بار کہنے کے بعد بھی پولیس نے لوگوں کی تلاشی نہیں لی اور انھیں جانے دیا۔

اسی طرح وزیر راکھی بڑلا نے کہا کہ ایک لڑکی کو مبینہ طور پر ان کے سسرال والوں نے جلا کر مارنے کی کوشش کی لیکن وزیر کے کہنے پر بھی پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

کانگریس کے ریاستی صدر ارودر سنگھ لولی اور اسمبلی میں پارٹی کے لیڈر ہارون یوسف نے مشترکہ پریس کانفرنس کر کے خود حکومت پر ریپ کے معاملے میں سست رویہ اپنانے کے الزام لگائے۔

واضح رہے کہ نئی دہلی اسمبلی کے پہاڑ گنج تھانے کے تحت آنے والے علاقے میں منگل - بدھ کی رات کو 51 سال کی ایک غیر ملکی خاتون کے ساتھ مبینہ طور اجتماعی زیادتی کی گئی تھی۔ پولیس نے اس معاملے میں اب تک دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔

اسی بارے میں