بھارت: شیروں کو کتوں سے خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دنیا کے تقریباً 3200 شیروں میں سے نصف سے زیادہ بھارت میں ہیں

بھارت میں پہلے سے ہی شیروں کو شکاریوں سے خطرہ رہا ہے لیکن اب انھیں کتوں سے بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

کتوں سے پھیلنے والا ایک وائرس ’كینائن ڈسٹمپرڈ وائرس‘ شیروں اور باگھوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔

گذشتہ ایک سال میں اس وائرس سے کم از کم ایک شیر اور ایک پانڈا کی موت کی مصدقہ رپورٹ آئی ہے۔ یہ وائرس ٹائیگر ریزرو کے اردگرد کے علاقے میں ملنے والے آوارہ کتوں کی جلد پایا جاتا ہے۔

اگر ان علاقوں میں پائے جانے والے آوارہ کتوں پر اگر کوئی شیر حملہ کرے اور اگر کتے میں مذکورہ وائرس پایا جاتا ہو تو اس سے حملہ آور شیر یا باگھ متاثر ہو سکتا ہے۔

بھارت میں مویشیوں کے طبی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یعنی آئی وی آر آئي کے ڈائرکٹر گیا پرساد کا کہنا ہے کہ کینیا کے سیرنگیٹي اور مسائی مارا میں 20 سے 30 فی صد شیروں کی موت ایسے ہی ایک وائرس کی وجہ سے ہوئی تھی۔

مدھیہ پردیش کے پاس ٹائیگر ریزرو کے شعبوں کے ڈائریکٹر آر ایس مورتی کہتے ہیں: ’ہم نے مویشی کالج کے ساتھ مل کر نگرانی کا منصوبہ شروع کیا ہے کیونکہ ہمارے یہاں ایک شیر کی موت مشتبہ حالت میں ہوئی تھی اوراس میں بہت زیادہ کیڑے پائے گئے تھے۔‘

شیروں کے وجود کو لاحق اس بحران کے بعد شیروں کے تحفظ کا قومی ادارہ (این ٹی سی اے) بھی حرکت میں آ گیا ہے۔

این ٹي سي اے نے حال ہی میں ریاستوں کو ٹائیگر ریزرو کے ارد گرد کے علاقے میں گھومنے والے پالتو یا آوارہ کتوں کی ویکسینیشن کی ہدایات دی ہیں۔

این ٹي سي اے کے ڈائریکٹر راجیش گوپال نے بی بی سی کو بتایا: ’گذشتہ جون سے اس پر کارروائی جاری ہے۔ وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور انڈین ویٹنري ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے مل کر ہدایتیں دی گئی ہیں۔ ابھی تک اس بارے میں ایک ہی باگھ کی موت سامنے آئی ہے جو کہ اتر پردیش کے پیلی بھیت علاقے میں ہوئی ہے۔‘

دنیا کے تقریبا 3200 شیروں میں سے نصف سے زیادہ بھارت میں ہے۔ بیماریوں اور زلزلے جیسے قدرتی آفات کی وجہ سے ہی سپریم کورٹ نے گجرات حکومت سے کہا تھا کہ وہ ان شیروں میں سے کچھ مدھیہ پردیش کو بھی دے۔

آئی وی آر آئي نے اس وائرس کو سنگین مسئلہ بتایا ہے۔ ڈاکٹر گیا پرساد نے کہا: ’ایک نمونہ ہمارے پاس دودھوا نیشنل پارک سے آیا تھا اور دوسرا نمونہ مغربی بنگال سے ایک پانڈا کا تھا۔ دونوں میں وائرس پایا گیا ہے۔ یہ وائرس اتنا خطرناک ہے کہ اگر یہ پھیل جائے تو تمام وائلڈ لائف ریزروز میں شیروں کے تحفظ پر شدید اثرات پڑ سکتے ہیں۔‘

Image caption ڈائرکٹر گیا پرساد کا کہنا ہے کہ کینیا کے سیرنگیٹي اور مسائی مارا میں 20 سے 30 فی صد شیروں کی موت ایک ایسے ہی وائرس کی وجہ سے ہوئی تھی

ڈاکٹر گیا پرساد کہتے ہیں: ’ہمارا تو یہی مشورہ ہے کہ ٹائیگر ریزرو کے ارد گرد جتنے آوارہ کتے ہیں ان کو ٹیکے لگائے جائیں۔ وہ اگر وہ ان سے پاک ہیں تو بیماری نہیں پھیلا پائیں گے۔ چڑیا گھروں میں بھی ویکسینیشن کی جا سکتی ہے۔‘

لیکن مسئلہ صرف یہیں تک نہیں ہے۔ دوسری طرف جنگل بھی سمٹ رہے ہیں، جن سے شیروں کا ماحول سکڑ گیا ہے۔ اس کے علاوہ جنگلی حیات کے سامنے شکار کا اہم مسئلہ بھی ہے۔

ڈاکٹر گیا پرساد کہتے ہیں: ’شیروں کو جب جنگل میں کچھ کھانے کو نہیں ملتا تو وہ باہر نکلتے ہیں اور کتے ملیں تو انھیں بھی مار ڈالتے ہیں۔‘

شیروں میں انفیکشن پھیلنے کے بعد ان کا علاج بہت مشکل ہے۔ ڈاکٹر گیا پرساد کے مطابق یہ وائرس شیروں کے نروس سسٹم پر اثر ڈالتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’شیر کئی بار راستے بھول جاتے ہیں۔ جنگل میں جانے کی بجائے کھیتوں میں چلے جاتے ہیں۔ بھٹک جاتے ہیں۔‘

تو کیا شیروں کے آدم خور ہونے کی وجہ بھی یہ وائرس ہو سکتے ہیں؟

اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں: ’میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن دماغ میں جو تبدیلی ہوتی ہے ان کی وجہ سے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنگل سے نکل کر دیہات کی طرف چل پڑیں۔‘

اسباب خواہ کچھ بھی ہو لیکن اتنا تو واضح ہے ہی کہ اگر جلد از جلد شیروں کو بچانے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے تو ان کے وجود پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔

اسی بارے میں