افغان طالبان کو ’جیت کا یقین‘ اور نگاہیں پھر سےاقتدار پر

Image caption تاریخی اعتبار سے افغانستان نے ہمیشہ قابض طاقتوں کو شکست دی: افغان طالبان کے ترجمان

افغانستان میں طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان کو یقین ہے کہ وہ افغانستان میں غیر ملکی افواج پر فتح حاصل کر لیں گے۔

ترجمان کے مطابق طالبان پہلے ہی ملک کے زیادہ تر حصے کو کنٹرول کر رہے ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کے جان سمپسن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ملک کے دور دراز علاقوں میں طالبان ہر جگہ نظر آتے ہیں جبکہ غیر ملکی افواج کے اہلکار اپنے اڈوں سے باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں۔

نیٹو افواج کیسا افغانستان چھوڑ کر جائیں گی؟

طالبان کے ترجمان نے صدارتی انتخابات کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ’انتخابی امیدواروں کے ساتھ ان کے کسی قسم کے تعلقات نہیں ہیں۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغانستان کے موجودہ حالات کو دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ طالبان دوبارہ وہاں قابض ہو جائیں گے تاہم سال 1996 میں ان کا کابل پر قبضہ غیرمتوقع تھا اور انتخابات میں ایک کمزور اور بدعنوان صدر کے انتخاب کی صورت میں طالبان مضبوط ہو سکتے ہیں۔

افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج ایساف کی جنگی فوج رواں سال ملک سے نکل جائے گی اور سکیورٹی کی ذمہ داریاں مکمل طور پر افغان فوج کے پاس ہوں گی۔

طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد کے بقول ملک میں ہر طرف طالبان موجود ہیں اور تاریخی اعتبار سے افغانستان نے ہمیشہ قابض طاقتوں کو شکست دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ’ہمیں یقین ہے کہ انھیں شکست ہو گی۔ملک کے دور دراز علاقوں میں ہر جگہ طالبان موجود ہیں اور وہاں نقل و حرکت کرتے ہیں اور دیہات کا کنٹرول ان کے پاس ہیں۔غیر ملکی افواج بہت خوفزدہ ہیں اور اپنے اڈوں تک محدود ہیں۔‘

صوبہ ہلمند جہاں برطانوی فوجی تعینات ہیں ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق وہاں صوبے کے ایک بڑے حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے۔

اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ایک ’جعلی عمل‘ ہے۔

طالبان کے ترجمان نے کہا کہ طالبان کا کسی بھی صدارتی امیدوار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایساف افواج نے سال 2013 میں پورے افغانستان کی سکیورٹی افعان فوج کے حوالے کر دی تھی تاہم اب بھی 97 ہزار فوج وہاں موجود ہیں جس میں 68 ہزار فوجی امریکی ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی نے امریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر ابھی تک دستخط نہیں کیے ہیں۔ معاہدے کی صورت میں سال 2014 کے بعد امریکی فوجی افغانستان میں قیام کر سکیں گے۔

سال 2001 میں طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد حامد کرزئی پہلے صدر تھے اور ملکی آئین کے مطابق وہ تیسری بار صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے ہیں۔

اسی بارے میں