ایران نے یورینیم کی افزودگی روک دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آراک میں واقع یہ ایرانی جوہری تنصیب ان کئی تنصیبات میں سے ایک ہے جن پر عالمی اداروں کی نظر ہے

اقوامِ متحدہ کے جوہری ہتھیاروں کے نگران ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران نے معاہدے کے تحت عالمی پابندیوں میں نرمی کے بدلے میں یورینیم کی افزودگی کے عمل کو روکنا شروع کر دیا ہے۔

اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹی وی نے خبر دی تھی کہ نتانز کے جوہری پلانٹ پر افزودگی کے لیے موجود سینٹری فیوجز کو غیر منسلک کیا گیا تھا۔

یہ اقدام اس معاہدے کے نتیجے میں کیا گیا ہے جو ایران اور امریکہ، روس، چین اور یورپی طاقتوں کے درمیان گزشتہ نومبر میں ہوا تھا۔

اس کے نتیجے میں بلآخر ایران اربوں مالیت کی پیٹروکیمیکل برآمدات شروع کر سکے گا جو اس کی معیشت کے لیے بہت ضروری ہیں۔

ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا کہ ’آئی اے ای اے کے معائنہ کارنتانز کے پلانٹ پر سینٹرفیوجز کو غیر منسلک کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایران کے خلاف پابندیوں کی برف پگھلنا شروع ہو رہی ہے۔‘

آئی اے ای اے نے پیر کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کو نتانز اور فردو کے پلانٹس پر پانچ فیصد تک خالص افزودگی کو روک دیا ہے۔

آئی اے ای کے معائنہ کاروں کی ایک خفیہ رپورٹ جو بی بی سی کو موصول ہوئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ اورایران نے افزودہ یورینیم کے زخیروں کو بھی ہلکا کرنا شروع کیا ہے اور بیس فیصد تک لانا شروع کیا ہے اور کیسے ان معائنہ کاروں کو نتانز اور فردو کے پلانٹس تک بہتر اور زیادہ رسائی دینے کے بارے میں تفصیلات پر اتفاق بھی کیا گیا ہے۔

اس معاہدے کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے جس سے تہران انکار کرتا ہے۔

جو یورپی برادری اس عمل سے مطمئن ہو جائے گی کہ ایران نے افزودگی روک دی ہے تو یورپی وزرائے خارجہ پیر کو جزوی طور پر پابندیاں ہٹانے کے حق میں ووٹ دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

یہ پابندیاں ایران کے خلاف 2006 سے لگائی گئی ہیں۔

یورپی یونین کیِ خارجہ پالیسی کی سربراہ بیرنس کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ ’یہ ہماری ان کوششوں کی راہ میں ایک اہم دن ہے جن کے نتیجے میں ہم ایران کا ایک صرف پرامن جوہری پروگرام دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

اندازہ ہے کہ پابندیوں کے ہٹنے سے ایران کی معیشت کو سات ارب ڈالر کی سہولت ملے گی۔

واضح رہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر گذشتہ سال نومبر میں ابتدائی معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت جہاں چھ ماہ میں ایران اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرے گا وہیں اس کے بدلے میں اسے پابندیوں میں نرمی کی بدولت تقریباً سات ارب ڈالر بھی حاصل ہو سکیں گے۔

امریکی صدر براک اوباما کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اور دوسری پانچ عالمی طاقتیں اگلے چھ مہینے میں ’معتدل سہولت‘ دینے کے عمل کا آغاز کریں گی اگر ایران اپنی زمہ داریاں پوری کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس دوران ہم وسیع تر پابندیوں کے دباؤ برقرار رکھیں گے اور اگر ایران اپنے وعدے پورے نہیں کرتا تو ہم مزید پابندیوں کے لیے کام شروع کریں گے۔‘

موجودہ چھ مہینے کا عرصہ ایک عارضی عرصہ ہے جس کے بعد ایک مستقل معاہدے پر غور کیا جا سکے گا۔

آئی اے ای کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اولی ہینونین نے خبردار کیا کہ اگر ایران اپنے وعدے سے پھر جاتا ہے تو دو سے تین ہفتے میں اس کے پاس اتنا انتہائی افزودہ یورینیم ہو جائے گا جس سے وہ جوہری ہتھیار تیار کر سکے گا۔

اسی بارے میں