راجیوگاندھی کے قاتلوں کی سزا عمرقید میں تبدیل

Image caption راجیو گاندھی کو 1991 میں ایک جلسے کے دوران خودکش حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا

بھارت کی سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے تین قاتلوں سمیت موت کے سزا یافتہ 15 قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ ان سزا یافتہ قیدیوں کی رحم کی اپیل پر صدر مملکت کی جانب سے کوئی فیصلہ نہ کیے جانے کے سبب کیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کی تین رکنی بنچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا: ’رحم کی اپیلوں پر کوئی فیصلہ کرنے میں طویل تاخیر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا جواز ہو سکتی ہے۔‘

عدالت نے کہا کہ اعصابی بیماری اور طویل قید تنہائی بھی عمر قید کی سزا کو کم کرنے کا سبب ہو سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے کسی قیدی کی موت کی سزا کی توثیق کے بعد اس قیدی کو صدر مملکت سے رحم کی اپیل کا حق حاصل ہے۔ لیکن بیشتر معاملوں میں رحم کی اپیلیں برسوں تک زیرِ غور پڑی رہتی ہیں۔

ایسے ہی 15 قیدیوں نے رحم کی اپیل پر کوئی فیصلہ نہ کیے جانے کی بنیاد پر اپنی سزائے موت کو چیلنج کیا تھا۔ ان میں راجیو گاندھی کو بم دھماکے سے ہلاک کرنے والے تین حملہ آور بھی شامل ہیں۔

‏عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صدر اور گورنر کے ذریعے رحم کی اپیل کے بارے میں فیصلہ کرنا اختیاری معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ان کی آئینی ذمے داری کا حصہ ہے اور سزا یافتہ قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ بھی سنایا ہے کہ رحم کی اپیل مسترد ہونے کی صورت میں قیدی کو مطلع کیے جانے اور اسے پھانسی دیے جانے کے درمیان کم از کم 14 دنوں کا وقفہ ہونا چاہیے۔

عدالت نے کہا: ’اس مدت میں قیدی کو موت کا سامنا کرنے کے تیار ہونے کا وقت مل جائے گا اور ساتھ ہی وہ اپنے عقیدے کے اعتبار سے عبادت کر سکے گا۔ اس مدت میں اس کی قابلِ عمل وصیت بھی پوری کی جا سکتی ہے اور ساتھ ہی اسے اپنے گھر والوں سے ملنے کا موقع ملے گا۔‘

عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا کہ قیدیوں کی رحم کی اپیل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے میں اس لحاظ سے کوئی تفریق نہیں کی جانی چاہیے کہ سزا یافتہ قیدی دہشت گردی کے جرم میں سزایاب ہوا ہے یا کسی دوسرے جرم میں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت کی عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم محمد افضل گورو کی رحم کی اپیل مسترد کیے جانے کا فیصلہ راز میں رکھا گیا تھا اور اطلاعات کے مطابق افضل کو آخری لمحات میں پھانسی دیے جانے کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا۔ حکام نے افضل کی بیوی اور بچے کو پھانسی سے قبل ملاقات کا موقع نہیں دیا اور پھانسی کے بعد ان کی باقیات کو بھی افضل کے گھر والوں کو نہیں سونپا گیا۔

حکومت کےاس قدم پر حقوق انسانی کی تنظیموں نے شدید نکتہ چینی کی تھی اور موت کی سزا کو یکسر ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی سربراہ میناکشی گانگولی نے کہا ہے کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت کی حکومت موت کی سزاؤں پر سرکاری طور پر پابندی لگائے، موت کے سزا یافتہ موجودہ قیدیوں کی موت کی سزا کو عمر قید میں بدلے اور پھر موت کی سزا کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے قدم اٹھائے۔‘

اسی بارے میں