پنچائت کے حکم پر اجتماعی زیادتی، گاؤں والوں کا واقعے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گاؤں کی خواتین کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں ریپ کی یہ کہانی من گھڑت ہے

راجا رام پور سبلپور سرخ مٹی والی زمین کے کسی دوسرے گاؤں کی طرح ہی کا ایک گاؤں ہے۔ بیربھوم ضلع کی لابھپور سڑک سے کئی کلومیٹر فاصلے پر واقع یہ گاؤں بھارت کے پہلے نوبل انعام یافتہ ربندر ناتھ ٹیگور کے شانتی نكیتن سے زیادہ دور نہیں ہے۔

یہ ایک قبائلی گاؤں ہے جس کے زیادہ تر گھر مٹی کے بنے ہیں۔ گاؤں خوشحال نہیں ہے لیکن بہت پسماندہ بھی نہیں ہے۔

کوئی بھی گاؤں کے سربراہ بلاي مددي کا گھر دکھا دے گا۔ مٹی کا بنا ایک دو منزلہ گھر، جس کی چھت چادرکی ہے، سامنے گھاس سے بھرا ایک صحن ہے۔ گھر کے آگے ایک گھاس پھونس کا کمرہ ہے جہاں پر پولیس نے گھیرا ڈال رکھا ہے۔

پولیس نے مجھے ’ جائے وقوعہ‘ دکھائی۔ ایف آئی آر کے مطابق 20 سالہ قبائلی لڑکی کی اسی کمرے میں 12 لوگوں نے اجتماعی عصمت دری کی تھی۔

سنیچر کو فارینزک سائنسدانوں نے وہاں ثبوتوں کی تلاش میں الٹرا - والٹ ریز کے ساتھ چھان بین کی تھی۔

سربراہ کے گھر کے پاس موجود لوگوں سے جب میں نے اس واقعے بارے میں پوچھا تو ان کا رٹا رٹایا جواب تھا، ’میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا.‘ یا پھر، ’میں گاؤں میں نہیں رہتا، میں نے بس اس کے بارے میں سنا ہے، اس لیے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘

سربراہ کے گھر سے 100 میٹر دور میں ایک عورت کو اس واقعہ کے بارے بات کرتے ہوئے سنا۔ میں نے انہیں بات کرنے کے لیے راضی کر لیا لیکن انہوں نے اپنا نام ظاہر کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

’ریپ ہوا ہی نہیں‘

اس خاتون کے بیٹے کو بھی پولیس نے شبے میں گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’یقین کریں، کوئی ریپ نہیں ہوا، یہ کسی قسم کی سازش ہے۔‘

انہوں نے کہا،’لڑکی اور اس کے خاندان کو بار بار تنبیہ کی گئی تھی کہ وہ ذات سے باہر کسی سے تعلق نہ رکھے، لیکن اس نے کوئی توجہ نہیں دی۔ پیر کو ہم نے اس کو ایک دوسرے قبیلے کے لڑکے کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ وہ لڑکی کے گھر پر تھے۔‘

،اون نے مزید بتایا ’ہم انہیں پکڑ کر گاؤں کے سربراہ کے گھر لے گئے اور ایک درخت سے باندھ دیا۔ اگلی صبح پنچائت بلائی گئی۔ میرے اور میرے بیٹے سمیت گاؤں کے مرو اور عورتوں نے رات بھر ان پر نظر رکھی۔ اس رات کسی نے بھی اس کا ریپ نہیں کیا۔‘

اس عورت کے مطابق پنچایت نے دونوں کو 25،000 روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ جو لڑکے کے خاندان نے ادا کر دیا اور دونوں کو جانے دیا گیا۔

جب میں اس عورت سے بات کر رہا تھا کچھ اور عورتیں وہاں جمع ہو گئیں اور بولنے لگیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گاؤں کے بیشتر لوگ اس بارے میں کوئی بات نہیں کرتے پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ردعمل فطری ہے

انہوں نے کہا، ’لڑکی کو اس کا بڑا بھائی واپس لے گیا تھا۔ منگل کو وہ پورا دن اپنے گھر پر رہی۔ بدھ کو ہم نے اس کو ایک سائیکل پر جاتے ہوئے دیکھا، اس کی ماں اس کے ساتھ تھی۔ شام کو پولیس والے گاؤں میں آئے اور ہمارے مردوں کو اٹھا کر لے گئے۔ ہمیں پتہ چلا کہ اس نے اجتماعی ریپ کی رپورٹ درج کرائی ہے۔‘

آرتی نامی ایک خاتون کا کہنا تھا ’اگر اس کا 12 مردوں نے ریپ کیا ہوتا تو میں عورت ہونے کے ناطے کہہ سکتی ہوں نے وہ ٹھیک سے چل ہی نہ پاتی سائیکل پر سوار ہونا تو بھول ہی جائیں۔ ‘

’یہ کہانی من گھڑت ہے اور ہمارے مرد مشکل میں پھنس گئے ہیں۔‘

متاثرہ خاندان کا موقف

وہ لوگ مجھے متاثرہ لڑکی کے گھر لے گئے۔ ایک صحن تھا، ایک دوسرے سے متصل دو کمرے، دونوں ہی بند۔ کچھ میلے کپڑے اور ایک جوتوں کا ایک جوڑا باہر پڑے ہوئے تھے۔

ایک کمرے کی بیرونی دیواروں پر فلمی اداکاروں کے پوسٹر چسپاں تھے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی نے دہلی میں تین سال تک ایک گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کیا تھا اور کچھ ماہ پہلے واپس آئی تھی۔

گاؤں والوں نے بتایا کہ لڑکی اس لڑکے کے ساتھ ایک مددگار کے طور پر کام کر رہی تھی۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ اس لڑکی کا مبینہ عاشق ایک شادی شدہ آدمی ہے، جس کے خاندان میں بیوی کے علاوہ بیٹی اور بیٹا بھی ہیں۔

منگل کو 25،000 روپے ادا کرنے کے بعد اس نے اپنا گاؤں چھوڑ دیا تھا۔ اس کی بیوی حسینہ بی بی نے مجھے بتایا کہ ان کی 15 سال کی بیٹی کی شادی ہونے والی تھی لیکن انہیں جرمانہ ادا کرنے کے لیے ایک سونے کی چین بیچني پڑی۔

متاثرہ لڑکی کے گھر میں مجھے اس کا سب سے چھوٹا بھائی پیر مرم ملا۔ وہ قریبی گاؤں میں اپنے سسرال میں رہتا ہے اور اس نے اپنی بہن کے ساتط پیش آنے والے واقعے کی روداد اپنی ماں اور بہن سے بعد میں سنی۔

میں نے اس سے پوچھا کہ دوسری خواتین اس کی بہن سے بالکل الٹ کہانی کیوں سنا رہی ہیں؟

اس پر پیر مرم نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اس کی بہن پر ضرور ظلم ہوا تھا۔ اس کا کہنا تھا ’وہ ایسی کہانی کیوں گڑھےگي؟‘

’خفیہ رپورٹ‘

بعد میں بنگال کی خواتین اور بچوں کی ترقی وزیر سش پاجا نے سري سرکاری ہسپتال میں جا کرمتاثرہ لڑکی کی خیریت دریافت کی

وزیر کا کہنا تھا، ’ایسی شکایات میں متاثرہ لڑکی کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اور اس معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ انتہائی خفیہ ہوتی ہیں اور تو اور میں نے بھی انہیں نہیں دیکھا ہے۔‘

پانچ رکنی ڈاکٹروں کے ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر است بسواس وزیر کے بیان کو ہی دہراتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’طبی جانچ کی رپورٹ خفیہ ہیں اور صرف پولیس کو ہی دی جائے گی۔ آپ مجھ سے یہ جاننے کی کتنی ہی کوشش کریں کہ اس کا ریپ کیا گیا ہے یا نہیں میں ایک لفظ بھی نہیں بولوں گا۔ میں بس یہ بتا سکتا ہوں کہ وہ لڑکی اب بہتر حالت میں ہے۔‘

است بسواس کہتے ہیں، ’وہ پیٹ کے نچلے حصے میں درد کی شکایت کر رہی تھی لیکن اب وہ ٹھیک ہے۔ اسے سب سے زیادہ ضرورت نفسیاتی سہارے کی ہے۔ وہ اب بھی صدمے میں ہے۔‘

میں جمعہ کو عہدہ سنبھالنے والے پولیس اہلکار آلوک راجوريا سے بھی ملا۔ ان کے پیشرو سی سدھاکر کو ہٹا دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، ’میں نے سنا ہے کہ گاؤں والوں کا کہنا کچھ اور ہے۔ ملزم اسی گاؤں کے رہائشی ہیں اور اس لیے یہ قدرتی ہے۔ فی الحال ہماری توجہ گرفتار لوگوں سے پوچھ گچھ پر ہے۔‘

اسی بارے میں