بھارت: موبائل فون کمپنیاں گرین توانائی کی جانب

تصویر کے کاپی رائٹ Agencies
Image caption بھارت میں تقریبا 90 کروڑ موبائل صارفین ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ 56 کروڑ ہی ان میں سے فعال ہیں

بھارت میں تقریبا 90 کروڑ موبائل صارفین کی آسانی کے لیے سیلولر نظام کے اہم شعبے ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں تاکہ لوگ جب چاہیں تب کال کر سکیں۔

اور اس پورے نظام کے سب سے اہم حصے موبائل ٹاورز کو ہمہ وقت 24 گھنٹے، سال کے 365 دن جاری رکھنے کے لیے بہت سی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

شہری علاقوں میں موجود ٹاورز کو عام طور پر عوامی گرڈ سے ہی بجلی مل جاتی ہے لیکن بھارت میں زیادہ تر مقامات پر بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے 60 فیصد سے زائد موبائل ٹاورز ڈیزل جنریٹروں سے چلتے ہیں۔

ہر ٹاور کو تقریباً اتنی ہی بجلی درکار ہے جتنی عام طور پر کسی شہری گھر میں خرچ ہوتی ہے۔

پورے ملک میں چار لاکھ سے زیادہ موبائل ٹاورز ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان ٹاورز کو اب آلودگی سے پاک توانائی سے چلائے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

بھارت میں ہر سال صرف ٹیلی کام کے شعبے میں دو ارب لیٹر ڈیزل خرچ ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہر ایک ٹاور پر ہر دن پانچ سے 40 ہزار روپے تک کا ایندھن خرچ ہوتا ہے

ٹیلی کام محکمے نے بھی موبائل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈیزل کی کھپت کم کریں اور توانائی کے نئے ذرائع تلاش کریں۔

دیہی علاقوں میں 50 فیصد اور شہری علاقوں میں 20 فیصد کاربن کے اخراج میں کمی کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔

اس کا حل مخلوط توانائی میں ہے جس میں دوبارہ استعمال کے قابل تونائی اور گرڈ سے حاصل توانائی کا استعمال شامل ہے۔

لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کام آسان نہیں ہوگا۔

مینجمنٹ کنسلٹنسی کمپنی اے ٹي كیرني کےموہت رانا کہتے ہیں: ’اس ضمن میں شمسی توانائی سب سے اچھا حل ہے، لیکن اس کی پیداوار بطور خاص ابتدائی خرچ بہت زیادہ ہیں۔ تاہم ڈیزل کی کھپت کم کرنے کے طریقوں پر مسلسل کام جاری ہے۔‘

اے ٹي كیرني نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق ٹیلی کام صنعت میں مجموعی طور پر کاربن اخراج کا نصف ڈیزل استعمال کی ہی وجہ سے ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شمسی توانائی کو آلودگی سے پاک بہترین ایندھن قرار دیا جا رہا ہے

بھارتی انفراٹیل ان کمپنیوں میں سے ایک ہے جو اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کمپنی کے 33 ہزار سے زیادہ موبائل ٹاورز ہیں جن میں سے نو ہزار سے زیادہ ٹاورز گرڈ کی مستقل بجلی سے دور ہیں اور ان میں ڈیزل کا استعمال کیا جاتا ہے جو قدرے مہنگا ہے۔

بھارتی انفراٹیل کے دیویندر سنگھ راوت بتاتے ہیں: ’ایندھن ہمارے اخراجات کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہر ایک ٹاور پر ہر دن پانچ سے 40 ہزار روپے تک کا ایندھن خرچ ہوتا ہے۔

’ایک ہزار سے زیادہ ٹاورز پر کمپنی توانائی کے دوسرے ذرائع کا استعمال شروع کر چکی ہے۔ لیکن یہ کام ٹیلی کام كمپنياں تنہا نہیں کر سکتی ہیں۔‘

بجلی کی پیداوار کے نئے طریقوں نے صنعت کاروں اور جدید طرز فکر والوں کے لیے ایک موقع فراہم کیا ہے۔

او ایم سي پاور ایک ایسی ہی کمپنی ہے جو دیہی علاقوں میں ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے چھوٹے چھوٹے پاور پلانٹ بنا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں ہر سال صرف ٹیلی کام کے شعبے میں دو ارب لیٹر ڈیزل خرچ ہوتا ہے

ان چھوٹے پاور پلانٹ میں سورج، ہوا اور بایو گیس جیسے ذرائع کا استعمال کر کے دور دراز کے علاقوں میں آلودگی سے پاک توانائی فراہم جا سکے گی۔

او ایم سي پاور کے انل راج کہتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں بھارت میں توانائی کی کھپت میں ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بڑے بڑے توانائی پلانٹ ہیں لیکن ان کے ٹرانسمیشن کے نظام غیر موثر ہیں۔ اس لیے اب ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ مختلف مقامات پر چھوٹے چھوٹے پلانٹ بنائے جائیں جس سے وہاں کی ضروریات پوری ہوں۔‘

حالانکہ ابھی بھی سب سے بڑا چیلنج صاف یا آلودگی سے پاک توانائی کی فراہمی ہے اور اس کے لیے پیسے حاصل کرنے ہیں۔

کمپنیوں کو امید ہے کہ فون کی سہولیات فراہم کرنے والے ٹاورز ان کے صارفین ہوں گے اور جو اضافی توانائی بچ رہے گی وہ آس پاس کے رہائشی علاقوں میں تقسیم کی جا سکے گی۔

اسی بارے میں