کابل: افغان فضائیہ کی بس پر خودکش حملے میں 4 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کابل میں حالیہ دنوں میں طالبان کے حملوں میں تیزی آئی ہے

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں میں ایک خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو افغان فضائیہ کی ایک بس کےقریب اڑا لیا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔

کابل پولیس کے ترجمان حشمت ستنکزئی نے روئٹرز کو بتایا کہ اس حملے کے بارے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ستنکزئی نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں جو اس دھماکے وقت اس جگہ کے قریب تھے۔

اس سےقبل افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو فضائیہ کی ایک بس کے قریب اڑا لیا جس کے نتیجے میں فضائیہ کے دو اہلکار اور دو شہری ہلاک ہو گئے۔

یہ حملہ شہر کے جنوب مشرقی علاقے میں ہوا جس کی آواز دور تک سنائی دی جس کے فوری بعد طالبان کے ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔

یاد رہے کہ یہ ایک ہفتے کے اندر تیسرا بڑا حملہ ہے جو کابل میں ہوا ہے جبکہ گزشتہ چوبیں گھنٹوں میں دو حملے کیے جا چکے ہیں۔

سکیورٹی حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیے گئے دو حملوں میں سے ایک شہر کے شمال میں ہوا جہاں دھماکے میں دو افراد زخمی ہو گئے جبکہ کابل کے بین القوامی ہوائی اڈے کے قریب ایک راکٹ گرا جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ وزارت دفاع کے ایک ترجمان کے بی بی سی کے نمائندے ڈیوڈ لائن کو بتایا ہے کہ خود کش حملہ آور نے اپنی بارودی جیكٹ کو اس وقت اڑا لیا جب ایک بس وہاں سے گزر رہی تھی۔

کابل کے پولیس سربراہ نے کہا ہے کہ حملے سے شہریوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ اس سال افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہو رہا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں طالبان کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’خودکش حملہ آور پیدل تھا اور اس نے خود کو اس بس کے پاس دھماکے سے اڑا دیا جو وزارت دفاع کے لوگوں کو کام پر لے جا رہی تھی۔‘

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سرکاری عملے کو بسوں میں کام پر لانا اور لے جانا ایک عام بات ہے اور یہ طالبان کے لیے آسان ہدف ہیں۔

18 جنوری کو کابل میں ایک ریستوران پر خودکش حملے اور فائرنگ سے 13 غیر ملکیوں سمیت کم از کم 21 افراد ہلاک ہوگئے۔

افغان طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور کہا تھا کہ انھوں نے دانستہ طور پر غیرملکیوں کو نشانہ بنایا۔

اسی بارے میں