بی جے پی رہنما اڈوانی نے بالآخر دل کی بات کہی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بی جے پی میں نریندر مودی کے قد میں اضافے سے بظاہر سب سے زیادہ اڈوانی متاثر ہوئے ہیں

بھارت میں حزب اختلاف کی اہم جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے سنہ 2014 میں لوک سبھا یعنی پارلیمانی انتخابات لڑنے کے عندیہ ظاہر کیا ہے۔

بھارتی میڈیا میں ہفتہ کو آنے والی خبروں میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ بی جے پی اپنے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کو راجیہ سبھا میں بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔

اتوار کو لوک پارلیمانی انتخابات لڑنے کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ایل کے اڈوانی نے نامہ نگاروں سے کہا: ’ابھی تک تو دل میں یہی ہے۔‘

اس بارے میں جب بی بی سی نے بی جے پی کے ترجمان نلین کوہلی سے بات کی تو انہوں نے کہا: ’قومی صدر راج ناتھ سنگھ کہہ چکے ہیں کہ جو اڈوانی جی چاہیں گے ، وہی ہوگا۔ راج ناتھ جی نے بہت واضح طور پر یہ بات کہی ہے۔ ان کے الفاظ یہی تھے کہ جو اڈوانی جی چاہیں گے ، وہی ہوگا۔‘

لال کرشن اڈوانی فی الحال مغربی ریاست گجرات کی گاندھی نگر سیٹ سے لوک سبھا کے منتخب رکن ہیں۔ اس سے قبل وہ بی جے پی کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار تھے لیکن گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے سامنے آنے کے بعد وہ پس پشت چلے گئے ہیں۔

انھوں نے نریندر مودی کے آئندہ پارلیمانی انتخابات کے لیے بنائي گئی کمیٹی کا سربراہ بنانے پر بظاہر بھارتیہ جنتا پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا اور تمام کوششوں کے باوجود اسے واپس لینے سے انکار کر دیا تھا تاہم بعد میں انھیں منا لیا گيا۔

بی جے پی نے حال ہی میں اپنے بعض اہم رہنماؤں کو راجیہ سبھا انتخابات کے لیے نامزد کیا ہے۔

جن سات ناموں کی بی جے پی نے تجویز پیش کی ہے ان میں سابق مرکزی وزیر سی پی ٹھاکر، ستیہ نارائن جٹيا اور وجے گوئل بھی شامل ہیں۔

پارٹی وجے گوئل کو راجستھان، سی پی ٹھاکر کو بہار اور ستیہ نارائن جٹيا کو مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا میں بھیجنا چاہتی ہے۔

راجیہ سبھا انتخابات سات فروری کو ہونے والے ہیں اور اس کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 28 جنوری ہے۔

اسی بارے میں