بھارت: انڈمان جزائر میں کشتی غرقاب، 21 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈمان جزائر میں پورٹ بلیئر وہ مقام ہے جسے کبھی کالا پانی کہا جاتا تھا لیکن اب یہ سیاحتی مقام ہے

بھارت کے انڈمان نکوبار جزائر میں پورٹ بلیئر کے پاس ایک کشتی کے پلٹ جانے سے کم از کم 21 لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں 29 لوگوں کو بچا لیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر تمل ناڈو کے كانچي پورم اور ممبئی کے سیاح تھے۔ ایک آدمی ابھی بھی لا پتہ بتایا جا رہا ہے۔

حادثہ اتوار کی شام مشرقی انڈمان اور نکوبار جزائر کے علاقے میں ساحل سمندر سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا۔

میرین ریسكيو اینڈ كوارڈینیشن کمانڈ کو حادثے کی خبر ملنے سے پہلے ہی ماہی گیروں نے بہت سے لوگوں کو بچا لیا تھا۔

اتوار کی رات کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پورٹ بلیئر کے ضلع میجسٹریٹ پی جواہر نے بتایا کہ ’امدادی کا کام جاری ہے۔ بھارتی کوسٹ گارڈ اور بھارتی فضائیہ امدادی کاموں میں لگی ہوئی ہیں۔ کشتی پر تقریباً 45 سے 50 افراد سوار تھے۔ کشتی کے ڈوبنے کے معاملے کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے اور سوموار سے اس کی جانچ شروع ہو رہی ہے۔ کشتی پر تین بچے بھی تھے جن میں سے ایک کی موت ہو گئی ہے۔‘

حکام نے بتایا ہے کہ 51 سیاحوں میں تقریباً 32 تامل ناڈو اور پانچ ممبئی کے شہری تھے۔

ڈی جی پولیس سدھیر یادو نے بتایا کہ ’یہ کم فاصلے تک جانے والی کشتی تھی۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ اس میں اتنے زیادہ لوگوں کو لے جانے کی صلاحیت نہیں تھی۔‘

اس بارے میں ایک اخبار کے نامہ نگار زبیر احمد کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی کشتی کا نام ایکوا میرین ہے جو راس آئی لینڈ، نارتھ بے اور وائپر آئی لینڈ کے درمیان سیاحوں کو سیر کرانے لے جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ تینوں مقامات پورٹ بلیئر کے ایک کلو میٹر کے دائرے میں ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کشتی کی صلاحیت 30 لوگوں کو لے جانے کی ہے لیکن اس میں زیادہ لوگ سوار تھے۔

ان کے مطابق یہ حادثہ لاپروائی کے سبب ہوا۔’ کشتی میں سوار لوگوں کو لائف جیکٹ پہننے کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئی تھی۔‘

اسی بارے میں