ہاتھیوں کے لیے فلائی اوور

Image caption عدالت نے امید ظاہر کی ہے کہ ہاتھیوں کی رہنمائی کے لیے سائن بورڈ ضرور لگائے جائیں گے کہ اپنی حفاظت کے لیے وہ فلائی اوورز کا ہی استعمال کریں

ہندوستان کی مشرقی اور شمال مشرقی ریاستوں سے آئے دن ہاتھیوں کے مرنے کی خبریں آتی رہتی ہیں، کبھی کبھی قانون شکن شکاریوں کے لالچ کاشکار ہوکر لیکن اکثر گھنے جنگلات سے گزرنے والی ریل کی پٹریوں پر تیز رفتار ٹرینوں کی زد میں آکر۔

صورتِ حال اتنی گمبھیر ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے جہاں کچھ غیر سرکاری اداروں کا مطالبہ ہے کہ یا تو گھنے جنگلات سے گزرنے والی ٹرینوں کی رفتار اتنی کم کردی جائے کہ ہاتھیوں کو بچانے کے لیے انہیں بروقت روکا جاسکے یا پھر ریل گاڑیاں زمین سے کچھ اونچائی پر چلائی جائیں، اسی طرح جیسے دلی میں پلرز پر میٹرو چلتی ہے۔

لیکن محکمہ ریل میں بھی دانشوروں کی کمی نہیں ہے، وہاں افسران اپنی نئی غیر روایتی سوچ اور نئے انداز سے آپ کے ہوش اڑا سکتے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سےکہا کہ پورے سفر کے دوران ٹرینوں کی رفتار کم کرنا تو عملاً ممکن نہیں ہے اور پلرز پر ٹرین چلانے کےلیے آٹھ ہزار کروڑ روپے کی ضرورت ہوگی لیکن ایک راستہ یہ ہے کہ جنگلات میں ہاتھیوں کی راہ گزر کے لیے فلائی اوور اور انڈر پاس تعمیر کر دیے جائیں۔

محکمہ نے تو یہ واضح نہیں کیا کہ یہ فلائی اوور اور انڈر پاس وہ کہاں بنانا چاہتا ہے لیکن یہ امید تو کی ہی جاسکتی ہے کہ ان علاقوں کو ترجیح دی جائے جہاں ہاتھیوں کے سکول، ہسپتال اور بڑے شاپنگ مال وغیر واقع ہیں۔

پھر مسافر اپنی منزلوں تک اور ہاتھی اپنے مالز تک مستی کے ساتھ جاسکیں گے۔

بہرحال، یہ تجویز سن کر سپریم کورٹ سے بھی رہا نہیں گیا۔ عدالت نے امید ظاہر کی ہے کہ ہاتھیوں کی رہنمائی کے لیے یہ سائن بورڈ ضرور لگائے جائیں گے کہ اپنی حفاظت کے لیے وہ ان فلائی اوورز کا ہی استعمال کریں۔

راکی ساونت مہاراشٹر کی وزیرِ اعلیٰ؟

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption چیتن بھگت نے کہا کہ عام آدمی پارٹی اب ’سیاست کی آئٹم گرل بن گئی ہے۔‘

راکھی ساونت کا شمار بالی وڈ کی مشہور ’آئٹم گرلز’ میں کیا جاتا تھا، آج کل ان کا فلمی کریئر ذرا زوال پذیر ہے لیکن نئے راستے کھلتے ہیں رہتے ہیں۔ آئٹم گرلز ہندی فلموں کی جان ہوتی ہے، وہ صرف ایک تڑکتے بھڑکتے گانے میں نظر آتی ہیں اور اکثر اس فلم کی پہچان بن جاتی ہیں۔

راکھی سوانت اکثر خبروں میں آنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن اس مرتبہ انہیں سرخیوں میں دھکیلا گیا ہے۔ شروعات مصنف چیتن بھگت نے کی جو پہلے عام آدمی پارٹی کے بڑے مداح تھے لیکن گذشتہ دو تین ہفتوں سے اس کے خلاف ہو گئے ہیں، وہ پارٹی کی حکمت عملی سے ناراض ہیں۔

ایک ٹی وی شو میں چیتن بھگت نے کہا کہ عام آدمی پارٹی اب ’سیاست کی آئٹم گرل بن گئی ہے۔‘ پھر مہارشٹر میں ہندو قوم پرست جماعت شو سینا کے سربراہ اودھو ٹھاکرے نے لکھا کہ راکھی ساونت بھی دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سے بہتر حکمرانی کرسکتی ہیں!

عام آدمی پارٹی کا جواب ہے کہ شیو سینا کو راکھی ساونت اتنی ہی پسند ہیں، تو مسٹر ٹھاکرے مہارشٹر میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے انھیں اپنا امیدوار کیوں نہیں بنا لیتے؟

ادوھو ٹھاکرے نےتو ابھی کوئی جواب نہیں دیا ہے لیکن راکھی ساونت کب خاموش بیٹھتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اودھو ٹھاکرے جو کہتے ہیں بہت سوچ سمجھ کر کہتے ہیں۔۔۔اگر نریندر مودی چائے بیچتے بیچتے وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں تو وہ ڈانس کرتے کرتے دیش کیوں نہیں چلا سکتیں؟

اور ہم سمجھ رہے تھے کہ بات صرف وزیر اعلیٰ بننے کی ہو رہی ہے! راکھی ساونت نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپنے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ایک سادی سی لڑکی ہیں جس کے خواب بڑے ہیں۔

چھپن انچ کا سینا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’چھپن انچ کا سینا بنانے میں کتنا وقت لگے گا!‘

ہندوستان کی سیاست میں آج کل ’56 انچ کے سینے’ کی بہت مانگ ہے۔ بی جے پی کے لیڈر اور وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے پارٹی کے امیدوار نریندر مودی نے اتر پردیش میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یو پی کو گجرات بنانے کے لیے 56 انچ کا سینا چاہیے۔۔۔!‘

اس پر ہندی کے اخبار جن ستا نے ایک دلچسپ کارٹون شائع کیا ہے جس میں بی جے پی کے بزرگ رہنما لال کرشن اڈوانی، جو لمبے عرصے سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں اور جن کی عمر اب چھیاسی سال ہے، ایک جمنیزیم کے انسٹرکٹر سے معلوم کر رہے ہیں کہ ’چھپن انچ کا سینا بنانے میں کتنا وقت لگے گا!‘

جواب تو کارٹون میں شامل نہیں ہے لیکن اگر ہوتا تو شاید یہ ہی ہوتا کہ بہت دیر کردی مہرباں آتے آتے۔۔۔

اسی بارے میں