افغانستان: عراق سے بڑا فوجی انخلا جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مارچ اور دسمبر کے درمیان دو لاکھ 18 ہزار گاڑیوں اور کنٹینروں کو افغانستان سے نکالا جانا ہے

افغانستان میں جاری جنگی آپریشن کے باوجود نیٹو افواج کے ساز وسامان کے انخلا کا بھاری مرحلہ پورے زور و شور سے جاری ہے جس میں زمینی، سمندری اور ہوائی تمام ذرائع بروئےکار لائے جا رہے ہیں۔

برطانیہ اور امریکہ کی افواج کے افغانستان سے انخلا کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ ملک میں موجود سینکڑوں فوجی اڈوں، ہزارہا گاڑیوں اور لاکھوں ٹن پر مبنی ہتھیاروں اور دیگر سامان کو بند کر کے ان ممالک کو واپس بھیجا جا رہا ہے، فروخت کیا جا رہا ہے یا ناکارہ قرار دے کر کباڑ میں پھینکا جا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دسمبر 2014 تک افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کا مطلب محض فوجیوں کو جہاز پہ چڑھانا نہیں بلکہ یہ ایک بہت بڑا مرحلہ ہے۔

ہمارے نامہ نگار ڈومینِک بیلی کے مطابق نیٹو کا اندازہ ہے کہ اس سال مارچ اور دسمبر کے درمیان تقریبا دو لاکھ 18 ہزار گاڑیوں اور فوجی ساز وسامان سے بھرے کنٹینروں کو افغانستان سے نکالا جانا ہے۔ اب تک نیٹو اس جنگ زدہ ملک سے 80 ہزار گاڑیاں یا کنٹینر نکال چکا ہے۔

برطانیہ 31 دسمبر کی حتمی تاریخ تک اپنی تین ہزار سے زائد گاڑیاں، ہیلی کاپٹر اور دیگر ساز وسامان افغانستان سے واپس اپنے ملک لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ کچھ سامان واپس نہیں کیا جائے گا بلکہ اس فروخت کر دیا جائے گا۔ برطانوی سامان کی فروخت کی ذمہ دار کمپنی نے بتایا ہے کہ وہ اب تک دو ہزار سے زائد ٹرکوں کے برابر کا سامان اور ایک سو سے زیادہ گاڑیاں فروخت کر چکی ہے۔

امریکہ اب تک تقریباً 300 ہزار ٹن کے آلات افغانستان سے نکال چکا ہے، لیکن وہ بھی برطانیہ کی طرح اپنا تمام ساز و سامان واپس نہیں لے جائے گا بلکہ اسے فروخت کر ے گا یا ناکارہ قرار دیتے ہوئے اس سے افغانستان میں ہی گلو خاصی حاصل کر لے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ کچھ سامان سے افغانستان میں ہی گلوخلاصی حاصل کرے گا

ہمارے نامہ نگار نے مزید بتایا ہے نیٹو کے استعمال میں رہنے والی فوجی چوکیاں اور فعال فوجی اڈے بند کیے جا رہے ہیں اور انھیں افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا جا رہا ہے تا کہ وہ سکیورٹی کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لے لیں۔

اسی طرح اگر افغان فوجی چاہیں تو کئی قسم کا غیر فوجی سامان، مثلا فوجیوں کی رہائش گاہیں، میز کرسیاں، جنریٹر، کمپیوٹر، ٹیلی ویژن، وغیرہ بھی ان کے استعمال کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔ تاہم نیٹو ’تاریں‘ یا اس قسم کا کوئی دوسرا سامان جسے انسانی حقوق کی پامالی کے لیے استعمال کیا جا سکے، افغانستان میں نہیں چھوڑے گا۔

مشہور جریدے ’ڈیفنس انالیسس‘ کا کہنا ہے کہ عراق سے انخلا کے مقابلے میں افغانستان سے فوجی انخلا بہت زیادہ پیچیدہ اور کٹھن مرحلہ ہے۔ جریدے کے مدیر فرانسِس ٹُوسا کے بقول: ’وہ (نیٹو افواج) ایک ایسے ملک میں ہیں جس کا کوئی سمندی راستہ نہیں اور دیگر ذرائع مواصلات بھی بہت بُرے ہیں۔ عراق کے مقابلے میں جہاں آپ کے پاس کویت کی بندرگاہ تک جانے کے لیے کئی بڑی سڑکوں کی سہولت تھی، افغانستان ایک بھیانک خواب ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زیادہ تر امریکی اسی راستے واپس جائیں گے جس راستے وہ آئے تھے، یعنی طیاروں میں

اسی بارے میں