شادی کیلیے لاکھوں ڈالر کی پیشکش

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 33 سالہ گیگی چاؤ نے اپنے دیرنہ دوست شون ایوا کے ساتھ فرانس میں 2012 میں شادی کر لی تھی

ہانگ کانگ کے ایک کروڑ پتی تاجر کی بیٹی نے ایک کھلے خط میں اپنے والد سے کہا ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں اور انھیں اس بات کو قبول کرنا چاہیے۔

یہ بات انھوں نے اس وقت کہی جب ان کے والد نے ان کے دولہے کے لیے لاکھوں ڈالر کی پیش کش کی۔

گیگی چاؤ نے اپنے والد سیسل چاؤ سے کہا کہ وہ ان کی خاتون پارٹنر کے ساتھ ’ایک نارمل، باعزت انسان جیسا سلوک روا رکھیں۔‘

33 سالہ گیگی چاؤ نے اپنی دیرینہ دوست شون ایوا کے ساتھ فرانس میں سنہ 2012 میں شادی کر لی ہے۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’دنیا میں اچھے مردوں کی کمی نہیں لیکن وہ میرے لیے نہیں ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق چاؤ نے سنہ 2012 جو ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کی پیش کش کی تھی اب انھوں نے اس پیشکش کو بڑھا کر دگنا کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ ہانگ کانگ میں 1991 کے بعد ہم جنس پرستی جرم کے زمرے میں نہیں رہی تاہم ایک ہی جنس کے ساتھ ابھی تک وہاں شادی کی اجازت نہیں ہے۔

سیسل چاؤ پراپرٹی اور شپنگ کے بڑے تاجر ہیں اور انھوں نے خود بھی کبھی شادی نہیں کی۔ انھوں نے گذشتہ سال بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کی بیٹی کو ’ ایک اچھے شوہر کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ انھوں نے اپنی بیٹی کو شادی کے لیے راضی کرنے کے لیے جس رقم کی پیش کش کی تھی اس ضمن میں بہت سے ممکنہ شادی کے خواہش مند لوگوں کے جواب آئے۔

گیگی چاؤ سوشلائٹ اور بزنس وومن ہیں، ان کا خط ہانگ کانگ کے کم از کم دو اخباروں میں شائع ہوا ہے جن میں ایک ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ بھی شامل ہے۔

اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ لوگ ان کے والد کے بارے میں ’بے حس باتیں‘ کہہ رہے ہیں اور وہ اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔

انھوں نے لکھا: ’حقیقت تو یہ ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ آپ جس طرح سوچتے ہیں میں اس کے لیے آپ کو ہمیشہ معاف کرتی رہوں گي کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ میری بھلائی چاہتے ہیں۔

’ایک بیٹی کی حیثیت سے آپ کی خوشی میرے لیے سب سے بڑی چیز ہے۔ لیکن رشتے کے معاملے میں مجھ سے وابستہ آپ کی امیدیں اور میں درحقیقت جو ہوں وہ میل نہیں کھاتے۔‘

اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ یہ امید بھی نہیں رکھتیں کہ ان کے والد اور ان کے پارٹنر ’اچھے دوست ہوں۔ بلکہ یہ میرے لیے بہت ہوگا اگر وہ اس سے خوفزدہ نہ ہوں اور اس کے ساتھ نارمل، باوقار انسان کا سلوک روا رکھیں۔‘

انھیں نے کہا: ’میں معذرت خواہ ہوں کہ آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ چونکہ ہانگ کانگ میں اچھے اور مناسب مردوں کی کمی ہے اس لیے میں لیزبیئن رشتے میں منسلک ہو گئی۔‘

اسی بارے میں