’خواتین ہی ریپ کے واقعات کی ذمہ دار ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے عائشہ میرجی کے بیان کی شدید مذمت کی ہے

بھارت میں ایک سیاست دان کی جانب سے ریپ کے واقعات میں خواتین کو ذمہ دار قرار دیے جانے کے بیان پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔

خواتین کے لیے کام کرنے والے حکومتی پینل کی رکن عائشہ میر جی نے کہا تھا کہ ’ کسی حد تک خواتین‘ خود ریپ کے واقعات کی ذمہ دار ہیں اور ان کے ملبوسات اور رویے کا اس میں کردار ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے کارکنوں، کانگریس پارٹی اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس بیان کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔

عائشہ میرجی نے بعد میں اپنے بیان پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی ’ذاتی‘ رائے تھی۔

بھارت میں ہر 22 منٹ میں جنسی زیادتی کا ایک واقعہ رپورٹ ہوتا ہے اور دسمبر 2012 میں دارالحکومت دہلی میں ایک طالبہ سے اجتماعی جنسی واقعے کے بعد جنسی زیادتی کے واقعات پر سخت ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔

عائشہ میرجی مغربی ریاست مہاراشٹر میں حکمراں جماعت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی رکن ہیں اور وہ ریاست کی خواتین کے لیے کام کرنے والے کمیشن کی رکن بھی ہیں۔

عائشہ میرجی نے کہا تھا کہ دہلی میں اجتماعی جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی نربھیا (قانونی وجوہات کی وجہ سے مثاثرہ کو یہ فرضی نام دیا گیا ہے) اپنے دوست کے ساتھ رات کو گھر سے باہر کیوں نکلی تھیں۔ اس کے علاوہ انھوں نےممبئی میں ایک فیکٹری کے کھنڈرات میں اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی فوٹو جرنلسٹ کا بھی ذکر کیا۔

بھارت کے نجی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق عائشہ میرجی نے کہا ’کیا واقعی نربھیا کو رات کو 11 بجے اپنے دوست کے ساتھ فلم دیکھنے جانا چاہیے تھا؟ فیکٹری میں ہونے والے اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے کو دیکھیں، کیا متاثرہ کو شام کے چھ بجے ایک ویران جگہ پر جانا چاہیے تھا؟‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’جنسی زیادتی کے واقعات اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ خواتین نے کپڑے ٹھیک نہیں پہنے ہوتے، ان کے رویے اور ان کے غیر ضروری جگہوں پر جانے سے ہوتے ہیں۔‘

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں، سیاسی جماعتوں نے عائشہ میرجی کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔

آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمن ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ عائشہ میرجی ریاست مہاراشٹر کے خواتین سے متعلق کمیشن کی رکنیت کے’لائق‘ نہیں ہیں۔

نجی ٹی چینل سی این این آئی بی این کے مطابق کانگریس جماعت کی سینیئر رکن ریتا گھوانا جوشی نے کہا: ’یہ بیان بالکل ناقابل قبول ہے۔ خواتین کے کمیشن کی رکن کو اس قسم کے بیانات نہیں دینے چاہییں۔ خواتین کو زیادہ بااختیار بنانے کی بات کرنے چاہیے نہ کہ ان کے لباس پر پابندیاں لگانی چاہیے۔‘

نجی ٹی وی چینل کے مطابق عائشہ میرجی نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر رپورٹ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں