بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے صدر کو پھانسی کی سزا

مطیع الرحمن نظامی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مطیع الرحمن نظامی کا کہنا ہے کہ وہ سزا کے خلاف اپیل کریں گے

بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے صدر مطیع الرحمٰن نظامی کو اسلحے کی سمگلنگ کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔

بنگلہ دیش کی عدالت نے مطیع الرحمن نظامی اور دیگر 13 افراد کو ہمسایہ ملک بھارت کے ایک باغی گروپ کو اسلحہ فراہم کرنے کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ سزا پانے والے افراد میں ملک کے سابق وزیر بھی شامل ہیں۔

ان افراد پر سنہ 2004 میں آسام کے علیحدگی پسندوں کے لیے اسلحے کی سمگلنگ کا الزام ہے۔ ان دنوں مطیع الرحمٰن وزیرِصنعت تھے اور بنگلہ دیشی حکام نے مذکورہ اسلحہ چٹاگانگ کی بندرگاہ پر ضبط کیا تھا۔ اسلحہ سمگلنگ کے مقدمے کے علاوہ اُنھیں دیگع مقدمات میں سنہ 1973 کی جنگِ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے الزامات کا مجرم بھی ٹھہرایا گیا ہے۔

مطیع الرحمٰن نظامی کا کہنا ہے کہ وہ سزا کے خلاف اپیل کریں گے۔

مطیع الرحمٰن نظامی سے پہلے جماعت اسلامی کے کئی دیگر ارکان کو بھی جنگی جرائم میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔ جماعتِ اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو بھی جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی دی جا چکی ہے۔

بنگلہ دیش کے جنگی جرائم کے ٹربیونل نے رواں سال فروری میں عبدالقادر ملا کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئےعمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نےسزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔

جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ ان کے ارکان پر جنگی جرائم کے مقدمات سیاسی بنیادوں پر چلائے گئے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات بین الاقوامی معیار پر پورے نہیں اترتے۔

اسی بارے میں