بھلڑ کی سزائے موت پر عملدرآمد موخر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عدالت نے گذشتہ ہفتے رحم کی اپیلوں کو نمٹانے میں غیر معمولی تاخیر کی بنیاد پر 15 افراد کی موت کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا تھا

بھارت کی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ خالصتانی شدت پسند دیوندر پال سنگھ بھلڑ کی سزائے موت پر اس وقت تک عمل نہ کیا جائے جب تک عدالت ان کی اپیل پر اپنا فیصلہ نہیں سنا دیتی۔

دیوندر پال سنگھ بھلڑ سنہ 1995 سے جیل میں ہیں اور انھوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جائے کیونکہ صدر جمہوریہ نے ان کی رحم کی اپیل پر فیصلہ کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی ہے۔

یوندر پال سنگھ بھلڑ خالصتان کی علیحدگی پسند تحریک سے وابستہ تھے اور انھوں نے 1993 میں یوتھ کانگریس کے ایک لیڈر ایم ایس بٹا کو قتل کرنے کے لیے دہلی میں بم دھماکہ کیا تھا جس میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کیس کے دو پہلو اہم ہیں۔ ایک یہ کہ یوندر پال سنگھ بھلڑ تقریباً 20 سال سے جیل میں ہیں اور ان کا موقف ہے کہ صدر جمہوریہ نے ان کی رحم کی اپیل پر فیصلہ کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی جس کی وجہ سے وہ سخت ذہنی انتشار کاشکار رہے، اور دوسرا یہ کہ ان کی ذہنی صحت اب ٹھیک نہیں ہے لہذا ایسے حالات میں انھیں پھانسی نہیں دی جاسکتی۔

یوندر پال سنگھ بھلڑ کا کیس کافی مضبوط مانا جا رہا ہے کیونکہ عدالت نے گزشتہ ہفتے رحم کی اپیلوں کو نمٹانے میں غیر معمولی تاخیر کی بنیاد پر 15 افراد کی موت کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ پھانسی کو عمر قید میں بدلنے کا فیصلہ کرتے وقت اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی کہ مجرم کو دہشت گردی سے متعلق کسی قانون کے تحت سزا دی گئی ہے یا نہیں۔

یوندر پال سنگھ بھلڑ کے وکیل رام جیٹھ ملانی نے جمعے کو عدالت میں اپنے دلائل پیش کیے۔

سینئیر وکیل سنجے ہیگڑے نے عدالتی کارروائی کے بارے میں کہا کہ یوندر پال سنگھ بھلڑ نے اس سے پہلے بھی عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن اس وقت ان کی اپیل مسترد کردی گئی تھی تاہم اب عدالت کے تازہ فیصلے کے بعد صورت حال بدل چکی ہے اور ایک قانونی مشاہد کی حیثییت سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ فیصلہ یوندر پال سنگھ بھلڑ کے حق میں آنے کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔

یوندر پال سنگھ بھلڑ کو سنہ 2001 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی اور ان کی رحم کی اپیل پر تقریباً 10 سال تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔

عدالت عظمی یہ بھی کہہ چکی ہے کہ دماغی بیماریوں اور قید تنہائی کے کیسز میں بھی سزا بدلی جا سکتی ہے۔

اس فیصلے کے بعد یوندر پال سنگھ بھلڑ کے وکلا نے بھی دعوی کیا تھا کہ ان کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے۔

عدالت نے ایک ہفتےکے اندر ان کی دماغی صحت پر ماہرین سے رپورٹ طلب کی ہے۔

بھارت میں پھانسی کی سزا پر شاذ و نادر ہی عمل کیا جاتا ہے لیکن گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال میں مببئی پر حملوں کے سلسلے میں امیر اجمل قصاب اور پارلیمان پر حملے کے سلسلے میں افضل گورو کو پھانسی دی گئی ہے۔

بھارت کی جیلوں میں تقریباً 400 لوگ ایسے ہیں جنھیں پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان میں سابق وزیر اعظم راجیو گاندھے کے قاتل بھی شامل ہیں۔

قانونی ماہرین مانتے ہیں کہ ان مجرموں میں سے ان لوگوں کو نئی زندگی مل سکتی ہے جو لمبے عرصے سے جیلوں میں بند ہیں اور یوندر پال سنگھ بھلڑ کے کیس میں جو بھی فیصلہ آئے گا اس کا راجیو گاندھی کے قاتوں پر براہ راست اثر پڑے گا۔

اسی بارے میں