افغانستان میں کرکٹ کی داستان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دہائیوں سے خانہ جنگی کا شکار افغانستان کا عالمی کپ میں کوالیفائی کرنا بڑا کارنامہ ہے

بے شک افغانستان کرکٹ کے کھیلنے والے بڑے ناموں کا ہمسایہ ہے مگر افغانستان میں کرکٹ کھیلنے کی روایت بہت قدیم نہیں ہے۔

بی بی سی کے جعفر ہاند نے جائزہ لیا کہ کیسے اب افغانستان میں کرکٹ جسے بہت عرصے سے نظرانداز کیا گیا تھا اور اسے بیرونی چیز سمجھا جاتا تھا، اب مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور ملک میں اتحاد کو فروغ دے رہی ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں افغانستان کے کئی شہروں میں لوگوں نے ملک کے عالمی کرکٹ کپ میں کوالیفائی کرنے کا جشن منایا جو 2015 میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد ہو گا۔

افغانستان جو دہائیوں سے خانہ جنگی کا شکار ہے اس کے لیے یہ بہت بڑا کارنامہ ہے مگر ایسا کیسے ممکن ہوا؟

اس سوال کا جواب افغانستان کی تاریخ سے منسلک ہے جس مں ہجرت ایک نمایاں پہلو ہے خاص طور پر جو مہاجرین 1980 کی دہائی کے دوران پاکستان میں قائم کیے گئے مہاجر کیمپوں میں نقل مکانی کر کے بس گئے تھے۔

جنوبی ایشیا کی دوسری نوآبادیات کی طرح افغانستان میں برطانوی سامراج نے کرکٹ کی روایات نہیں چھوڑیں مگر مجھے یاد ہے جب میں ایک بچے کی حیثیت سے پشاور کے قریب جلوزئی کے مہاجر کیمپ میں پہنچا تھا۔

Image caption تاج ملوک کو افغانستان میں بابائے کرکٹ کہا جاتا ہے جنہوں نے افغانستان کی قومی ٹیم کی تشکیل لیے طویل عرصہ محنت کی

1992 میں کرکٹ کا عالمی کپ جیتنے کے بعد پاکستانیوں نے اس کھیل کو زیادہ دلچسپی سے کھیلنا شروع کیا اور ہر پارک، گلی اور محلے میں کھیل نظر آنے لگا اور زیادہ دیر نہیں لگی جب یہ مہاجر کیمپوں میں پہنچا۔

افغان کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین کریم صادق نے بھی کرکٹ کچہ کارا کے کیمپ میں کھیلنا شروع کیا تھا۔ وہ رات کے وقت ایک ماچس بنانے والی فیکٹری میں کام کرتے تھے جبکہ دن کو کرکٹ کھیلتے تھے۔

اس سے آپ کیمپوں میں کرکٹ کی مقبولیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہمسایہ ممالک کی طرح اب افغانستان میں بھی خالی زمین کا ٹکڑا کرکٹ کی پچ بن جاتا ہے

تاج ملوک کو اسی قسم کی لگن کی ضرورت تھی جب انھوں نے 1990 میں افغان قومی کرکٹ ٹیم کی بنیاد رکھنے کا خواب دیکھا۔

تاج ملوک نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ: ’ہم کچہ کارا کیمپ میں رہتے تھے اور میں اپنے تین بھائیوں کے ساتھ ایک افغان کرکٹ ٹیم چلاتا تھا اور ہم کرکٹ کے دیوانے تھے ہر بین الاقوامی کرکٹ میچ دیکھا کرتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ دس سالوں میں اس کھیل کو حقیقی معنوں میں فروغ ملا ہے

انھوں نے کہا کہ ’میں سوچا کرتا تھا کہ اگر ہم اسی طرح کرکٹ کھیلتے رہے تو ایک دن ہم اپنے ملک کی نمائندہ ٹیم بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘

تاج ملوک نے مختلف کیمپوں کا دورہ کیا اور ان میں سے بہترین کھلاڑی منتخب کر کے پاکستانی ٹیموں کے ساتھ کھیلنا شروع کیا۔

تاج ملوک کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے ٹیم بنانی شروع کی تو میں ہر اس کھلاڑی کے پاس گیا جسے میں جانتا تھا مگر ان کے والد میرے گھر آئے اور مجھے خبردار کیا کہ ایسا نہ کروں کیونکہ کرکٹ ان کے بیٹوں کے وقت کا ضیاع ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اب افغان نوجوانوں کی بڑی تعداد نے بھی کرکٹ کھیلنا شروع کیا ہے

تاہم 1995 تک افغان اولمپکس کمیٹی کے تحت افغان کرکٹ فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا اور یہ طالبان کے عروج کے باوجود ممکن ہوا جنھوں نے اس کے سرِ عام کھیلنے پر پابندی لگادی تھی۔

جہاں طالبان کو فٹبال کے جانگیے پر اعتراض تھا وہیں کرکٹ کا لباس نامناسب نہیں تھا اور کئی طالبان کیمپوں میں کھیلنے کے باعث اس کھیل کو پسند بھی کرتے تھے۔

ایسا بھی ہوا کہ بعض اوقات طالبان حکام نے کرکٹ کے میچ کے بعد انعامات تقسیم کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جب افغان ٹیم نے عالمی کرکٹ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تو اس کا جشن ملک بھر میں منایا گیا

طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد تاج ملوک نے نئی حکومت سے درخواست کی مگر انھوں نے کہا کہ ’وہ اس کھیل کے لیے سرکاری امداد نہیں دے سکتے کیونکہ یہ ایک بیرونی کھیل ہے۔‘

اس کے نتیجے میں تاج ملوک کو امداد کے لیے اپنے دوستوں کی جانب دیکھنا پڑا مگر اس کے باوجود کرکٹ پھلنا پھولنا شروع ہوئی اور صرف چند صوبے ایسے تھے جن میں کوئی کرکٹ ٹیم نہیں تھی۔

عالمی کرکٹ کونسل اب امداد کر رہی ہے جس کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ مقامی ٹیلنٹ سامنے آ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایسے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے کن کے تحت سکولوں میں زیادہ کرکٹ کو فروغ دیا جائے جن میں خواتین کے لیے بھی کھیلنے کے موقع فراہم کیے جائیں گے

کرکٹ نے ابتدا میں پشتون اکثریتی علاقوں میں جڑیں پکڑیں جو پاکستان کی سرحد کے ساتھ منسلک تھے مگر اب یہ بھی تبدیل ہو رہا ہے اور ملک کی دوسری قومیں بھی اس میں شریک ہو رہی ہیں۔

جب افغانستان نے عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کیا تو اس ٹیم میں صرف پشتوں نہیں تھے اور نہ ہی جشن منانے والے صرف پشتوں تھے بلکہ اس میں ہزارہ، ازبک، تاجک اور دوسرے شامل تھے۔

اسی بارے میں