مغربی بنگال میں چار افراد کو زندہ جلا دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مغربی بنگال بنگلہ دیش کی سرحد سے ملحق ہے اور یہاں سے جانور چوری یا سمگل کر کے بنگلہ دیش بھجوا دیے جاتے ہیں جہاں ان کی بہتر قیمت مل جاتی ہے

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں پولیس کے مطابق بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب ایک گاؤں میں چار لوگوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انھیں زندہ جلا دیا۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ جلپائی گوڑی ضلع میں پیش آیا۔

ضلعے کے پولیس سپریٹنڈنٹ كال اگروال نے بی بی سی ہندی کے بی ایم تیواری کو بتایا کہ ’اس معاملے میں اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ چاروں لوگوں کی لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔‘

پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ اتوار کو علی الصبح تین سے چار بجے کے درمیان پیش آیا۔

اس سے پہلے جلپائی گوڑی سے ملحقہ علاقے کے سب سے بڑے شہر سلی گوڑی کے پولیس کمشنر جگموہن نے بتایا کہ ’ہو سکتا ہے یہ اموات جانوروں کے سمگلروں کے دو گروہوں کے باہمی تنازعے کا نتیجہ ہو۔ مکمل تحقیقات کے بعد ہی حقائق سامنے آئیں گے۔‘

لوگوں کو شک تھا کہ یہ چاروں افراد گاؤں میں جانور چرانے آئے تھے۔

یاد رہے کہ سرحدی علاقوں میں جانوروں کی سمگلنگ سنگین مسئلہ ہے جبکہ امباڑي کے جس بلرام پور گاؤں میں یہ واردات ہوئی، وہاں بھی جانوروں کی چوریوں کے معاملے بڑھ رہے ہیں۔ گاؤں والوں نے پولیس سے کئی بار اس کی شکایت کی تھی۔

پولیس نے بتایا کہ گاؤں کے ایک رہائشی نے جب چاروں افراد کو مشتبہ حالت میں گاؤں میں گھومتے دیکھا تو ان کو لگا کہ یہ جانور چوروں کا گروہ ہے اور جانوروں کو چرانے کے لیے گاؤں میں گھوم رہا ہے۔ اس نے باقی گاؤں والوں کو جگایا اور چاروں کو گھیر کر پکڑ لیا گیا۔

بتايا جاتا ہے کہ پہلے ان کی بری طرح پٹائی کی گئی اور پھر ان کے ہاتھ اور پاؤں باندھ کر ان کو نذرِ آتش کر دیا گیا جس کے بعد بری طرح جلنے کی وجہ سے ان لوگوں نے موقعے پر ہی دم توڑ دیا۔

پولیس اطلاع ملنے پر موقعے پر پہنچی اور حکام کا کہنا ہے کہ چاروں افراد کی لاشیں اتنی بری طرح جل گئی ہیں کہ ان کی شناخت ممکن نہیں ہے۔ اس واقعے کے بعد گرفتاری کے خوف سے گاؤں کے زیادہ تر لوگ فرار ہو گئے۔

مغربی بنگال سے ملحق بنگلہ دیش کے سرحدی علاقوں میں جانوروں کی سمگلنگ کے واقعات میں حالیہ برسوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس کاروبار میں سرگرم لوگ کبھی خرید کر تو کبھی چرا کر جانوروں کو سرحد پار بھجوا دیتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں ان جانوروں کی تین سے چار گنی قیمت مل جاتی ہے۔ سرحد پر خاردار تاروں کی باڑ لگانے کا کام مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ان سمگلروں کو اپنے کام میں خاصی سہولت ہوتی ہے۔

اسی بارے میں