مزدور بچے:’ بھارت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ‘

Image caption ایک اندازے میں دنیا میں سب سے زیادہ بھارت میں بچوں سے مزدوری کرائی جاتی ہے

تیرہ سالہ لکشمی کو جبری مشقت سے نکال لیا گیا لیکن وہ اب بھی لاغر اور خوفزدہ ہے۔ بچوں کے تحفظ کے دو اہل کاروں نے لکشمی کو سہارا دے کر پولیس سٹیشن پہنچایا۔

لکشمی کو چار سال پہلے شمالی مشرقی بھارت میں واقع ان کے گاؤں سے اغوا کیا گیا تھا۔

لکشمی بازیاب ہونے سے پہلے مغربی دہلی میں مختلف گھروں میں کام کرتی رہی، جس میں کھانا پکانا، صفائی ستھرائی اور بچوں کی دیکھ بھال کرنا شامل تھا۔

لکشمی کے بقول: ’مجھے آرام کرنے کی اجازت نہیں تھی، اگر مجھ سے کچھ غلطی ہو جاتی تھی، یا ان کے مرضی کے خلاف کوئی کام کرتی تھی تو وہ مجھے مارتے پیٹتے تھے۔ اگر میں تھک کر کچھ دیر کے لیے بیٹھ جاتی تھی تو مجھ پر چیختے تھے۔

’مجھے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی، مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ میں دہلی میں ہوں، میرے مالک نے مجھے بتایا تھا کہ میں جنوبی بھارت کے شہر مدراس میں ہوں۔‘

جب لکشمی سے پولیس اور کونسلر نے سوالات پوچھے تو وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور اس نے پولیس کو بتایا کہ جن لوگوں نے اسے اغوا کیا تھا انھوں نے جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

لکشمی کے بقول: ’انھوں نے مجھے دھمکی دی کہ اس بارے میں اگر کوئی بھی بات کی تو اس کے گاؤں میں ہر شخص کو بتا دیں گے اور اس کے نتیجے میں میں بدنام ہو کر رہ جاؤں گی۔ اس کے بعد جب مختلف گھروں میں مزدوری کرانے بھیجا جاتا تو کام دلانے والا ایجنٹ تمام معاوضہ اپنے پاس رکھ لیتا تھا اور مجھے اس میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا جاتا تھا۔‘

لکشمی کے قریبی رشتہ دار کو معلوم ہے کہ اسے بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ آسام میں چائے کے باغ میں کام کرنے والے اس کے رشتہ دار نے کہا کہ لکشمی کے والدین کا اس وقت انتقال ہو گیا تھا جب وہ کمسن تھی اور اس کی دادی اس نوجوان لڑکی کے بارے میں بہت فکرمند رہتی تھیں۔

ان کے مطابق وہ خود بھی لکمشی کے اغوا ہونے پر پریشانی کا شکار تھے۔

’ہم کر ہی کیا سکتے تھے، ہم غریب لوگ ہیں، میرے پاس اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ دہلی جا کر اپنی لاپتہ بھانجی کو دیکھ سکتا۔‘

بے حس ایجنٹ اس وقت ہمارے گھروں میں آتے ہیں جب ہم چائے کے باغات میں کام کر رہے ہوتے ہیں اور وہ ہماری نوجوان لڑکیوں کو کپڑوں اور مٹھائیوں سے فریب دیتے ہیں، جب تک ہمیں معلوم ہوتا ہے اس وقت تک وہ کسی بڑے شہر کے لیے ٹرین پر سوار ہو چکی ہوتی ہیں اور ان لالچی آدمیوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔‘

بھارت میں ہر آٹھ منٹ میں ایک بچہ گم ہو جاتا ہے اور ان بچوں میں سے نصف دوبارہ کبھی نہیں ملتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سومیلا کو اکثر سوچتی تھیں کہ کیا وہ کبھی اس جہنم سے بھاگنے نکلنے میں کامیاب ہوں گی

اغوا کیے جانے والے بچوں کو اکثر اوقات جنسی تجارت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن بھارت میں زیادہ تر بچوں کو تیزی سےگھریلو مزدوری میں دھکیلا جا رہا ہے اور مکان کی چار دیواری میں یہ دوسرے لوگوں کی نظر سے بھی دور رہتے ہیں۔

حکومت کے خیال میں پانچ لاکھ بچے اس صورتِ حال سے دوچار ہیں۔

بچوں کے لیے کام کرنے والے ایک خیراتی ادارے کے زیر انتظام چلنے والے دہلی میں بحالی کے ایک مرکز میں’بچپن بچاؤ اندولن‘ میں بہت سارے خاندان جمع تھے۔ یہ لوگ شمالی مشرقی ریاست آسام میں چائے کے باغات میں کام کرتے ہیں اور وہ اپنے لاپتہ بیٹیوں کو تلاش کرنے یہاں پہنچے تھے۔ ان کے خیال میں آسام کے صرف ایک علاقے رنگپورہ میں گزشتہ تین سے چار سال کے دوران 16 لڑکیاں لاپتہ ہوئی ہیں۔

اس ادارے کے سربراہ کیلاش سیتاری ان والدین کی اپنی بیٹیاں تلاش کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’بھارت کی ترقی میں یہ سب سے بڑا طعنہ ہے۔ متوسط طبقہ سستے اور تابع دار مزدوروں کا مطالبہ کرتا ہے۔

اس میں سب سے سستے اور سب سے زیادہ غیرمحفوظ مزدور بچے، خاص طور پر لڑکیاں ہیں۔ سستے مزدوروں کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے ملک کے پسماندہ علاقوں سے بڑے شہروں میں بچوں کی سمگلنگ میں تیزی آ رہی ہے۔‘

18 سالہ سومیلا مینڈا کے کیس میں انھیں امید کی کرن نظر آتی ہے۔ سومیلا کو ایک ماہ پہلے ہی بازیاب کرایا گیا ہے اور ان کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر چند مبینہ سمگلروں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

سومیلا کے مطابق ان کی مالکن کے بارے میں اب بھی انھیں ڈراؤنے خواب آتے ہیں: ’میں نہیں چاہتی کہ جس صورتِ حال سے میں گزری ہوں اس کا کوئی اور سامنا کرے۔ میں اکثر سوچتی تھی کہ کیا میں اس جہنم سے کبھی بھاگنے میں کامیاب ہوں گی۔ میں نے سکول جانے، پڑھنے کے خواب دیکھے تھے۔ اور اب میں دوبارہ اپنی پڑھائی شروع کروں گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بہت سے والدین کے خیال میں شاید اب ابپنی بیٹیوں کو دوبارہ کبھی نہیں دیکھ سکیں گے

ایک اندازے کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ مزدوری کرنے والے بچے بھارت میں ہیں۔ بھارت میں کام کرنے کے عمر میں بارے میں قانون مبہم ہے۔ بچوں کے تحفظ کے بارے میں قوانین کے تحت 14 سال سے کم عمر بچے کو کام پر نہیں رکھا جا سکتا، لیکن 18 سال سے کم عمر کو قانونی طور پر بچہ تصور کیا جاتا ہے۔

بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والا سرکاری ادارہ اس معاملے میں بے بس ہونے کو تسلیم کرتا ہے۔

قومی کمیشن کی سربراہ کوشال سنگھ کے مطابق: ’بدقسمتی سے بچوں سے مزدوری کرانے سے باز رکھنے کا موجودہ قانون مکمل طور پر متروک ہو چکا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کو کافی اجاگر کیا گیا ہے اور قانون میں ترامیم کا ایک بل پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش کیا ہوا ہے وہ تاہم بہت دیر سے التوا میں پڑا ہوا ہے۔

اگر قانون میں تبدیلی ہوتی ہے تو بچوں کے استحصال کے خلاف کوششوں میں تھوڑی آسانی پیدا ہو گی لیکن دہلی آنے والے کئی خاندانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور یہاں موجود بہت سے والدین کو خوف ہے کہ انھوں نے اپنی بیٹیوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھو دیا ہے۔

اسی بارے میں