کشمیری سیاسی حلقوں میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا خیر مقدم

Image caption کشمیری حلقے پاکستان کی کشمیر پالیسی سے ناراض ہیں

ہر سال پانچ فروری کو پاکستان میں ’یوم یکجہتی کشمیر‘ منایا جاتا ہے اس روز پاکستانی حکومت اور سیاسی تنظیمیں مختلف تقاریب کا اہتمام کرکے کشمیریوں کی تحریک آزادی کے ساتھ تجدید عہدکرتی ہیں۔

اسی روایت کے تحت پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی اسمبلی میں تقریر کے دوران عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیر میں اقوم متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرانے کے لیے وہ پاکستانی کوششوں کا تعاون کرے۔

یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب کشمیری حلقے پاکستان کی کشمیر پالیسی سے ناراض ہیں۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یاسین ملک نے پاکستان نواز حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت پاکستان سے اس بات کی وضاحت طلب کریں کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کے دوران کشمیر اولین ترجیح کیوں نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری قربانیاں محض اس لیے نہیں تھیں کہ پاکستان اور بھارت تجارتی معاملات حل کریں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ بات چیت میں کشمیریوں کی مسلمہ قیادت کو بھی شامل کیا جائے۔‘

یاسین ملک کی لبریشن فرنٹ کشمیر کو ایک خودمختار ملک بنانے کی حامی ہے۔ لیکن پاکستان کے دیرینہ حمایتی سید علی گیلانی نے بھی پاکستان کی کشمیر پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی حکومت اور وہاں کی سیاسی پارٹیوں کو بھارت کے حوالے سے کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ کشمیر جس طرح ہمارا بنیادی مسئلہ اسی طرح ان کے ملک کا بھی کور ایشو ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’مسئلہ کشمیر کو چھوڑ کر فروعی معاملات پر بھارت کے ساتھ دوستی کرنے سے نہ صرف کشمیر بلکہ پورے خطے میں بدامنی پھیل سکتی ہے۔‘

علیحدگی پسندوں کی طرف سے پاکستان کی کشمیر پالیسی پر شبہات تو ظاہرکیے جا رہے ہیں، لیکن دلچسپ بات ہے کہ یہاں کی ہند نواز اور ہند مخالف جماعتوں نے پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مجوزہ مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔

حالیہ دنوں کشمیر میں ایک سیمینار کے دوران وزیراعلی عمرعبداللہ نے دعویٰ کیا کہ اس سال افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد کشمیر میں جو بھی صورتحال اُبھرے گی اس کا دارومدار پاکستانی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات کے نتائج پر ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ وزیراعلی عمرعبداللہ پاکستان سے کئی بار یہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ کشمیریوں کی وسطی ایشیا تک رسائی کو ممکن بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیا کے ساتھ کشمیریوں کے تاریخی، تجارتی ، تمدنی اور مذہبی رشتے ہیں۔

بھارتی نگرانی کے تحت انتخابات کی حامی جماعت عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجنیئر عبدالرشید کہتے ہیں کہ پاکستان کا عدم استحکام کشمیریوں کے مفاد میں نہیں ہوسکتا ہے اس لیے تمام حلقوں کو اپنا اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے طالبان اور حکومت کے مذاکرات کو کامیاب بنانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا ’ہمیں یقین ہے کہ تحریک طالبان اور ان کے حمایتی سب لوگ محب وطن ہیں۔ کشمیریوں کے لیے پاکستان کا استحکام بہت اہم ہے۔ ہم چاہتے ہیں پاکستان کے سبھی محب وطن ان مذاکرات کو کامیاب بنائیں۔‘

اس پس منظر میں میاں نواز شریف کا بیان معنی خیز ہے۔ تاہم مبصرین اس بیان کو الگ الگ زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ تجزیہ نگار ڈاکڑ شیخ شوکت حُسین کہتے ہیں کہ یہ محض ایک رسم کا اعادہ بھی ہوسکتا ہے۔

تاہم بعض دیگر مبصرین کا خیال ہے کہ تحریک طالبان کی شکایتوں میں یہ بھی شامل ہے کہ جنرل مشرف کی پالیسیوں سے پاکستان کی کشمیر پالیسی مجروح ہوچکی ہے۔ ’ہوسکتا ہے کہ میاں نواز شریف نے اشارہ دیا ہے کہ وہ مشرف کی پالیسی کو ترک کرچکے ہیں۔‘

اسی بارے میں