’عام آدمی پارٹی‘ اب پاکستان میں بھی

Image caption پاکستان میں بھی چند لوگوں نے مل کر عام آدمی پارٹی شروع کی ہے

لندن کی سردی میں چھٹی کے دن جہاں عام لوگ گرم کپڑے اور گرم ٹوپی پہن کر گھر میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں وہیں عام آدمی پارٹی کے کئی حامی پتلی سی ٹوپی پہن کر بارش میں جمع ہوئے۔ یہ موقع تھا عام آدمی پارٹی کے لندن دفتر کے افتتاح کا۔ اگرچہ یہاں ڈھول تاشے تو نہیں تھے لیکن لوگوں کے جوش و خروش میں کوئی کمی بھی نہیں تھی۔

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں عام آدمی پارٹی کی کامیابی کا سہرا بیرون ممالک میں آباد بھارتی نژاد لوگوں کے سر بھی بندھ رہا ہے۔ عالمی سطح پر بھی عام آدمی پارٹی کے بارے میں لوگوں میں کافی تجسس پایا جاتا ہے، خاص طور پر بھارت کے ہمسایہ ممالک نیپال اور پاکستان میں۔

پاکستان میں بھی کچھ لوگوں نے مل کر عام آدمی پارٹی پاکستان شروع کی ہے۔ اس پارٹی کے سربراہ ارشد سلہری ہیں جو ایک سماجی کارکن ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ارشد سلہری نے کہا کہ ’ہم بے شک بھارت کی عام آدمی پارٹی سے متاثر ہوئے ہیں اور ہمارا مقابلہ پاکستان تحریکِ انصاف سے ہے۔ جب پاکستان تحریکِ انصاف منظر پر آئی تو اس نے عام لوگوں اور نوجوانوں میں ایک امید پیدا کر دی تھی، لیکن اس جماعت نے سب کو مایوس کیا ہے۔‘

ارشد سلہری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عام آدمی کے لیے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی اس راستے سے بھٹک گئی ہے۔

ارشد سلہری کا کہنا ہے کہ انہوں نے پارٹی کے لیے ممبرشپ مہم کا آغاز کر دیا ہے اور اسلام آباد، راولپنڈی ، لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں لوگوں کو پارٹی کی رکنیت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پارٹی کا باقاعدہ اعلان اس سال 23 مارچ کو کیا جائے گا۔

Image caption پاکستان میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ ارشد سلہری ہیں جو ایک سماجی کارکن ہیں

جہاں تک بھارت کا سوال ہے تو دہلی کے اسمبلی انتخابات میں پہلی کامیابی کے بعد اگرچہ دوسرے ملکوں میں آباد بھارتی لوگوں کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، لیکن لوگ ’عام آدمی پارٹی‘ کے طورطریقوں کے بارے میں بھی سوال اٹھانا شروع ہو گئے ہیں۔

بھارت کے شہر حیدرآباد کی اشرف لندن میں اپنے شوہر امین کے ساتھ رہتی ہیں اور دونوں ہی آئی ٹی کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ جب ان کے شوہر امین عام پارٹی سے وابستہ ہوئے تو اشرف اس کے خلاف تھیں۔ لیکن اشرف کا کہنا ہے کہ وزیرِاعلی کیجریوال نے ان کی سوچ بدل دی ہے۔

بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں اشرف نے کہا: ’میں عام آدمی پارٹی کی حامی ہوں اور اس پارٹی سے وابستہ ہونے کی ان کی کہانی بالکل مختلف ہے کیونکہ جب میرے شوہر اس پارٹی کے ساتھ منسلک ہوئے تو مجھے لگتا تھا کہ کوئی تبدیلی نہیں آنے والی اس لیے ہمیں اپنا وقت برباد نہیں کرنا چاہئیے۔لیکن جب میں نے دہلی کے جنتر منتر پر لوگوں کا ہجوم دیکھنا شروع کیا تو میں نے سوچا کہ اگر کوئی ایک آدمی اس طرح کی تحریک سے وابستہ ہوتا ہے تو یہ اتفاق ہو سکتا ہے لیکن ہزاروں لاکھوں لوگوں کا اس کے ساتھ جُڑنا اتفاق نہیں ہو سکتا اور اس کے بعد ہی میں نے اس پارٹی سے وابستہ ہونے کا فیصلہ کیا۔‘

لندن میں رہنے والے مصنف شرد اوستھی نے بھی عام آدمی پارٹی کا دامن تھاما ہے۔ان کا کہنا ہے: ’میں محبِ وطن ہوں اسی لیے اس جماعت کے ساتھ آیا۔مجھ میں ملک کے لیے کچھ کر نے کا جذبہ تھا اور عام آدمی پارٹی نے مجھے یہ راستہ دکھایا۔‘

برطانیہ میں ایسے متعدد لوگ ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے عام آدمی پارٹی سے وابستہ ہیں۔

دہلی کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی اور بھارت سے باہر مقبولیت کے سبب عام آدمی پارٹی کے حامی بہت خوش ہیں لیکن اسی دوران کئی معاملات میں اس پارٹی پر تنقید بھی شروع ہو گئی ہے اور ان میں کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جنکا تعلق غیر اقامتی بھارتیوں سے بھی ہے۔ اسی طرح پارٹی پر دہلی میں افریقی خواتین کے ساتھ مبینہ نسل پرستی کے الزامات بھی شامِل ہیں۔

Image caption جب اشرف کے شوہر عام آدمی پارٹی سے منسلک ہوئے تو وہ اس کے خلاف تھیں

دہلی میں اقتدار میں آنے کے بعد کیجریوال حکومت نے ریٹیل میں ایف ڈی آئی لانے کا فیصلہ بھی تبدیل کر دیا جبکہ کئی غیر اقامتی بھارتی ایف ڈی آئی کے حق میں بتائے جاتے ہیں۔

لندن میں عام آدمی پارٹی کےرہنما ان فیصلوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں عام آدمی پارٹی کے رہنما راج ریڈی گِل کہتے ہیں کہ نسل پرستی کے معاملے پر ہم بہت حساس ہیں کیونکہ ہم برطانیہ میں رہتے ہیں اور اس مسئلے کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی پارٹی کے خلاف ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں اور ’جہاں تک ایف ڈی آئی کا تعلق ہے تو ہم نے دہلی کے تاجروں سے بات کرنے کے بعد ہم نے محسوس کیا کہ ایف ڈی آئی ان کے لیے نقصان دہ ہے اور وہ اس کے حق میں نہیں ہیں۔ ہم نے جو منشور میں لکھا تھا وہی کیا۔‘

ڈیووس کانفرنس میں بھی عام آدمی پارٹی کا ذکر کیا گیا۔ برطانیہ کی گولڈ سمتھ یونیورسٹی آف لندن میں پروفیسر مارٹن ویب دنیا بھر میں بدعنوانیوں کی خلاف عوامی ردعمل پر تحقیق کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں عام آدمی پارٹی پر بھی تحقیق کی ہے۔ وہ اسمبلی کے انتخابات کے دوران بھی دہلی میں ہی تھے۔

پروفیسر مارٹن ویب کا کہنا ہے کہ عام آدمی پارٹی سے متعلق واقعات کا سلسلہ بہت دلچسپ ہے اور یہ ایک عوامی تحریک تھی جو انتخابات جیت کر اقتدار تک پہنچ گئی۔ان کے بقول گزشتہ کچھ برسوں میں کئی ممالک میں تحریکیں چلیں لیکن بھارت میں یہ کسی تشدد کے بغیر اقتدار میں پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ بھارت میں اس پارٹی کے ساتھ ہر طبقے کے لوگ وابستہ ہیں۔