جعلی لاٹری کے لیے ایک ہزار میل کا رائیگاں سفر

رتن کمار
Image caption رتن کمار نےگزشتہ دو سالوں میں کئی بار جعل سازوں سے بات کرکے لاٹری رقم بھیجنے کی درخواست کی

بھارت کے ایک گاؤں سے رتن کمار ہزار میل سے زیادہ کا فاصلہ طے کر کے بی بی سی کے دہلی آفس پہنچے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ لاکھوں روپے کی ’بی بی سی لاٹری‘ جیتے ہیں۔

رتن کمار مالبسوي 41 سال کے ایک بے روزگار شخص ہیں۔ وہ تقریباً دو سال پہلے موبائل پر لاٹری جیتنے والے پیغامات کے جھانسے میں آ گئے۔

رتن کہتے ہیں، ’مجھے پیغام ملا کہ میں نے دو یا تین کروڑ روپے کی بی بی سی نیشنل لاٹری جیتی ہے۔ اس میں مجھ سے پیسے بھیجنے کے لیے معلومات طلب کی گئی تھیں۔‘

رتن کا کہنا ہے کہ تقریباً ’اسی وقت مجھے اور میرے کچھ دیگر ساتھیوں کو بھی اسی طرح کا پیغام ملا۔ مگر سب نے پیغام ڈیليٹ کر دیا اور اس کے بارے میں بھول گئے۔‘

لیکن رتن دھوکہ دہی کرنے والوں سے رابطے میں رہے اور میل کر کے اپنے بینک کی معلومات اور اکاؤنٹس کی تفصیل بھیجیں۔

انھوں نے گزشتہ دو سالوں میں کئی بار جعل سازوں سے بات کر کے لاٹری رقم بھیجنے کی درخواست کی۔

گزشتہ ماہ رتن اڑیسہ میں واقع اپنے گاؤں سے قریب 1،700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے کافی توقعات کے ساتھ بی بی سی کے دہلی میں دفتر پہنچے۔

اس سفر کے لیے انھوں نے اپنے دوستوں سے پیسے ادھار لیے۔ بی بی سی کے دہلی آفس پہنچنے سے پہلے انھوں نے ساری رات ریلوے پلیٹ فارمز پر بسر کی۔

رتن کہتے ہیں، ’مجھ سے فون کرنے والے نے کہا کہ وہ بی بی سی کے چانسلر ہیں۔ انھوں نے بڑے اچھے سے بات کی۔ انھوں نے ایک بڑی رقم بھیجنے کا وعدہ کیا لیکن کہا کہ مجھے پہلے 12،000 روپے بھیجنے ہوں گے تاکہ وہ پیسے آر بی آئی کے اکاؤنٹ میں بھیج سکیں۔‘

انھوں نے کہا، ’بی بی سی چانسلر ہمیشہ ہمدردی کے ساتھ بات کرتے تھے اور بھارت آنے پر ملنے کی بات کہہ رہے تھے۔‘

گزشتہ سال نومبر مہینے میں رتن نے ان سے بات کی تھی۔ وہ بتاتے ہیں، ’میں نے ان کو بتایا کہ میری ماں کی موت ہو گئی ہے تو انھوں نے پوچھا کہ کیا مجھے جیتی ہوئی لاٹری کا بھیجا گیا چیک مل گیا؟ جب انھوں نے چیک کے بارے میں بات کی تو میں نے چیک بھیجنے کے سلسلے میں معلومات کے لیے بی بی سی کے دفتر آنے کا فیصلہ کیا۔‘

رتن کا کہنا ہے کہ انہیں برطانیہ سے فون آیا تھا۔ سائبر قانون کے ماہر پون دگل کہتے ہیں کہ ایسے نمبروں کو ’ماسک نمبر‘ کہا جاتا ہے، ایسے نمبر ویب سائٹ سے نکالے جاتے ہیں۔ کوئی بھی ایسا نمبر حاصل کر سکتا ہے جو لندن، نیو یارک، پیرس یا دہلی کے نمبروں جیسے لگ سکتے ہیں۔

دہلی میں رہنے والے تکنیکی معاملات کے مصنف پرشاتو کے رائے کہتے ہیں، ’اس طرح کے پیغامات تیزی سے پھیلنے والے اور خطرناک ہوتے ہیں۔ دھوکہ دہی کرنے والے قابل اعتماد لگنے والے بی بی سی یا کوکا کولا جیسے ناموں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ نام لوگوں کی معلومات میں بھی ہوتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں، ’ظاہر سی بات ہے، چھوٹے شہروں یا گاؤں میں رہنے والے زیادہ تر لوگ بہت زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہوتے اور انٹرنیٹ یا تکنیکی سے واقف بھی نہیں ہوتے۔‘

میں نے جب رتن کے دیے نمبر پر فون کیا تو سکاٹ سمتھ نام کے کسی شخص نے فون اٹھایا اور کہا کہ وہ برطانیہ میں رہتے ہیں لیکن انھوں نے اپنا جاب ٹائٹل بتانے سے انکار کر دیا۔

جب میں نے کہا کہ میں بی بی سی سے بول رہی ہوں تو وہ کافی مشتعل ہو گئے۔

فون رکھنے سے پہلے انھوں نے کہا، ’میں بہت مصروف ہوں اور آپ سے بات نہیں کر سکتا۔ میں پولیس کو آپ کے بارے میں معلومات دوں گا اور آپ کی جانچ پڑتال كرواؤں گا۔ مجھے یقین نہیں کہ آپ بی بی سی سے بات کر رہی ہیں۔ اگر میں نے دیکھا تو گرفتار کروا دوں گا۔‘

میں نہیں جانتی کہ میں رتن کو اس بارے مںی قائل کی سکی یا نہیں کہ ’بی بی سی چانسلر‘ کے نام سے فون کرنے والا شخص اصل میں دھوکہ باز تھا۔

رتن کا کہنا تھا، ’مجھے کبھی نہیں لگا کہ مجھے دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ مجھے ان کے ساتھ بات کرنا اچھا لگتا تھا۔‘

رتن کہتے ہیں، ’اگر وہ پیسے نہیں دینا چاہتے تو میں ان پر دباؤ نہیں ڈال سکتا، یہ ان کا پیسہ ہے۔‘

اسی بارے میں