افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ: اقوام متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سال 2012 میں عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات میں کمی آئی تھی: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں گذشتہ برس عام شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی تعداد میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2013 میں افغانستان میں تین ہزار شہری ہلاک اور 56 سو زخمی ہوئے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور سکیورٹی کی ذمہ داری افغان فوج کے حوالے کرنے سے عام شہری شدت پسندوں کے حملوں میں زیادہ غیر محفوظ ہو گئے۔

سکیورٹی کی ذمہ داریاں منتقل ہونے سے جھڑپوں کے واقعات میں اضافے کی وجہ عورتوں اور بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات میں اضافہ ہوا۔

اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے مشن کی رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں پہلے کے مقابلے میں 34 فیصد بچے اور 36 فیصد خواتین زیادہ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ 74 فیصد ہلاکتیں غیر ریاستی عناصر کے حملوں کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔

افغانستان میں ایک ایسے وقت طالبان شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جب وہاں تعینات غیرملکی افواج رواں سال کے اختتام تک انخلا کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

ہلاکتوں کے زیادہ واقعات سڑک کنارے نصب بم دھماکوں، طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز میں جھڑپوں کے واقعات میں ہوئی ہیں۔

سال 2012 میں عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات میں کمی آئی تھی جبکہ سال 2011 سب سے خونی سال رہا جس میں 31 سو کے قریب عام شہری ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں