ڈھاکہ آتشزدگی: فیکٹری مالکان حکام کے حوالے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جرم ثابت ہونے پر فیکٹری مالکان عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے

بنگلہ دیش میں چودہ ماہ قبل ملبوسات بنانے والے کارخانے میں آتشزدگی کیس میں فیکٹری کے دو مالکان نے اپنے آپ کو حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

بنگلہ دیش کی پولیس نے دلاور حسین، ان کی اہلیہ اور کمپنی کے چیئرپرسن محمودہ اختر سمیت 13 افراد کے خلاف دسمبر سنہ 2013 میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

دارالحکومت ڈھاکہ کے مضافات میں واقع اس کارخانے میں 24 نومبر سنہ 2012 کو آگ لگنے سے 111 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پراسیکیوٹر انوار الکبیر کے مطابق دونوں افراد ڈھاکہ میں مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے آئے تھے اور اب وہ پولیس کی تحویل میں ضمانت کا انتظار کر رہے ہیں۔

ان کی گرفتاری کے وارنٹ گذشتہ سال دسمبر میں جاری کیے گئے تھے تاہم وہ آزادی سے ڈھاکہ میں رہ رہے تھے۔

یہ واضح نہیں کہ انھوں نے اپنے آپ کو حکام کے حوالےکیوں کیا۔ جرم ثابت ہونے پر انھیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق کارخانے کے مینیجرز اور محافظین کے خلاف مقدمہ اس لیے درج کیا گیا کیونکہ انھوں نے نچلی منزل پر آگ لگنے کے باوجود کارکنوں کو کام جاری رکھنے پر مجبور کیا تھا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ بنگلہ دیش میں پہلی بار ایسے کسی واقعے میں کارخانے کے مالکان کے خلاف بھی کارروائی ہوئی ہے۔

بنگلہ دیش میں کپڑے بنانے کے بڑے کارخانوں میں آتشزدگی کے واقعات معمول کی بات ہیں لیکن یہ بڑے سانحات میں سے ایک تھا۔

بنگلہ دیش میں ملبوسات بنانے والے تقریباً 4500 کارخانے ہیں جن میں 20 لاکھ سے زائد افراد کام کرتے ہیں۔

بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات کا 80 فیصد ٹیکسٹائل یا کپڑے سے بنی مصنوعات پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں