مجھے بھارتی حکومت سے کوئی توقع نہیں: تبسم افضل گورو

Image caption ’نو فروری کی صبح چھ بجکر پندرہ منٹ تک بھی افضل گورو کو یہ معلوم نہیں تھا‘

افضل گورو کی پہلی برسی پر بھارت کے زیرانتطام کشمیر میں ناکامی اور ناامیدی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔

گزشتہ برس نو فروری کو جب افضل گورو کو دہلی کی تہاڑ جیل میں خفیہ طور پھانسی دے کر دفن کیا گیا تو یہاں سیاسی اور سماجی حلقوں نے ان کی میت واپس لانے کا بیڑا اُٹھایا۔

لیکن افضل گورو کی پھانسی کی پہلی برسی پر انہیں ناکامی کا سامنا ہے کیونکہ حکومت ہند نے اس مطالبہ پر سردمہری کا مظاہرہ کیا۔ دوسری طرف افضل گورو کے اہل خانہ، خاص طور پر ان کی بیوہ تبسم ناامیدی کا مجسمہ بنی ہوئی ہیں۔ وہ حکومت ہند، سول سوسائٹی اور تمام حلقوں پر اعتماد کھو چکی ہیں۔

واضح رہے افضل گورو کو دسمبر 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے مسلح حملے کے لیے بھارتی سپریم کورٹ نے مجرم قرار دے کر انہیں پھانسی کی سزا سنائی۔ کئی سال کی سماعت کے بعد بھارتی صدر نے ان کی رحم کی درخواست مسترد کر دی اور پچھلے سال نو فروری کی صبح انہیں اہل خانہ سے ملاقات کا موقع دیے بغیر اچانک پھانسی دے دی گئی ا اور جیل کے احاطے میں ہی دفن کیا گیا۔

ان کی پہلی برسی کے موقعہ پر افضل کے آبائی قصبہ سوپور کی دوآبگاہ بستی میں قیام پذیر افضل گورو کی بیوہ تبسم کہتی ہیں ’مجھے حکومت ہند پر کوئی بھروسہ نہیں۔ جن لوگوں نے ایک بے قصور انسان کو خفیہ طور پھانسی پر چڑھایا وہ میت کیا واپس کریں گے۔ اگر پاکستان نے سربجیت سنگھ کی میت کو واپس کیا تو ہمیں بھی افضل کی میت واپس ملنی چاہیے۔ میرے خاوند کو انصاف نہیں ملا نہ کسی وکیل نے ہمارا دفاع کیا۔‘

تبسم کہتی ہیں کہ نو فروری کی صبح چھ بجکر پندرہ منٹ تک بھی افضل گورو کو یہ معلوم نہیں تھا کہ انہیں پھانسی دی جا رہی ہے۔ تبسم اور ان کے دوسرے اہل خانہ نے میت واپس نہ کیے جانے کو ایک تاریخی ناانصافی قرار دیا ہے۔

اس دوران خفیہ پھانسی میں افضل گورو کی ہلاکت کی پہلی برسی کے موقع پر حکومت اور علیحدگی پسند حلقوں کے درمیان ایک نفسیاتی جنگ کا ماحول تھا۔

حریت کانفرنس کے سبھی دھڑوں اور لبریشن فرنٹ نے افضل گورو کی یاد میں احتجاجی ریلیوں کا منصوبہ بنایا تھا لیکن پولیس نے کئی روز قبل ہی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا۔

سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ اور دوسرے رہنماوں کو گھروں میں نظربند کیا گیا جبکہ یاسین ملک گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہوگئے تھے۔ اتوار کو جب وہ کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک میں نمودار ہوئے تو انہیں گرفتار کیا گیا۔

دریں اثنا پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ پتھراؤ کے چند واقعات کو چھوڑ کر حالات مجموعی طور پر پرامن رہے۔

واضح رہے کشمیر کے سماجی حلقوں میں گذشتہ ایک سال سے افضل گورو کی میت واپس لانے کی کوششیں کی جاری ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم مختلف گروپوں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائٹیز (سی سی ایس) نے جموں کشمیر کے 850 شہریوں کی طرف سے دستخط شدہ درخواست حکومت ہند کو پیش کی تھی۔

Image caption افضل گورو کی ہلاکت کی پہلی برسی کے موقع پر حکومت اور علیحدگی پسند حلقوں کے درمیان ایک نفسیاتی جنگ کا ماحول تھا

اس درخواست میں افضل گورو کے باقیات کشمیریوں کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس درخواست میں طالب علموں، اساتذہ، سیاسی اور سماجی کارکنوں، صحافیوں اور بعض سرکاری ملازمین کے دستخط ہیں۔ اسی طرح ایک دوسرے سے ناراضگی کے باوجود علیحدگی پسند رہنماوں نے’متحدہ مجلس مشاورت‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ مجلس افضل گورو کے باقیات واپس لانے کے لیے عالمی سطح سیاسی اور سفارتی جدوجہد کرے گی۔

لیکن سول سوسائٹی یا علیحدگی پسندوں کی ان کاوشوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اور حکومت ہند نے میت واپس کرنے کے معاملے پر سردمہری کا مظاہرہ کیا۔

دریں اثنا پندرہ سال قبل بھارتی طیارے کے اغوا کے سلسلے میں مولانا مسعود اظہر کے ہمراہ رہا کیے گئے عسکری رہنما اور العمرمجاہدین کے سربراہ مشتاق زرگر نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ وہ اس پھانسی کے ردعمل میں مسلح جدوجہد میں شدت لائیں گے۔

وزیر اعلیٰ بھی یہ کہہ کر دامن جھاڑ چکے ہیں کہ انہوں نے افضل گورو کی ڈیتھ وارنٹ پر دستخط نہیں کیے۔

اسی بارے میں