افغانستان: غیر قانونی شکار میں خطرناک حد تک اضافہ

Image caption افغانستان میں تقریباً 150 قسم کے جنگلی جانوروں اور پرندوں کو معدوم ہونے والی نسلیں قرار دیا گیا ہے

افغانستان میں جنگلی حیات کے محافظوں کے مطابق مقامی اور غیرملکی، خاص کر خلیجی ریاستوں سے آنے والے شکاریوں کی طرف سے غیر قانونی شکار کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

افغان حکام نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکار پر پابندی کے قوانین بشمولِ صدارتی حکم کے باوجود ملک کے اکثر صوبوں میں غیر پرندوں کا قانونی شکار ہو رہا ہے لیکن انھوں نے اس کی تصدیق نہیں کی کہ اس میں خلیجی ممالک کے لوگ ملوث ہیں۔

ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اہلکاروں کی معاونت کے بغیر غیرقانونی شکار ممکن نہیں ہو سکتا۔

ان ماہرین نے ملک کے بعض سیاستدانوں پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے غیر قانونی شکار کو اپنے انتخابی مہم کے لیے خلیجی ممالک کے بااثر شخصیات کی حمایت کرنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

ہیرات پروفیشنل سرور کونسل کے ساتھ کام کرنے والے ایک سماجی کارکن عبدالرحمان نے کہا کہ’جیسا کہ انتخابی مہم میں تیزی آ رہی ہے تو بعض عناصر جو چند عرب ممالک کے قریب ہیں، اپنی انتخابی مہم کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے عرب ممالک کے لوگوں کو یہاں لاتے ہیں۔‘

بعض سیاستدانوں کی طرف سے اس قسم کے حربے استعمال کرنے اور افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے تناظر میں’لوگ پریشان ہیں کہ ملک میں غیر قانونی شکار خطرناک حد تک بڑھ جائے گی۔‘

چند ہفتے پہلے ہیرات میں غیر قانونی شکار کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کے دوران سماجی تنظیموں کے نیٹ ورک کے سربراہ خلیل پارسا نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ’ہمارا احتجاج کئی عرب افراد کے خلاف ہے جو مغربی افغانستان آئے اور جنھوں نے وہاں قانون تھوڑا۔‘

انٹرنیٹ پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں عربوں کے لباس میں ملبوس افراد عقاب لیے افغانستان سے جاتے ہوئے دکھائے گئے جبکہ افغان میڈیا نے بھی اس مسئلے کو بڑھے پیمانے پر اجاگر کیا۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے میڈیا رپوٹس کو دیکھا لیکن ان کی طرف سے کی گئی تحقیقات کے دوران کوئی چیز بھی سامنے نہیں آئی اور مقامی انتظامیہ کو غیر قانونی شکار پر نظر رکھنے کی سخت ہدایت جاری کر دی گئیں ہیں۔

لیکن جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے بعض اداروں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی جس میں خلیجی ممالک کے شکاری بھی شامل ہیں، شکار میں ملوث رہے ہیں۔

پاکستان میں ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے اعجاز احمد کہتے ہیں کہ’ہمارے ساتھیوں کی طرف سے کی گئی تحقیق کے مطابق مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے افراد افغانستان میں شکار کرنے کے لیے جاتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہاں تک کہ جنگ کے دوران بھی مشرقِ وسطیٰ سے لوگ روایتی طریقے سے عقاب کے ذریعے شکار کرنے کے لیے وہاں جاتے تھے۔‘

افغانستان کے تحفظِ ماحولیات کے قومی ادارے کے نائب سربراہ عبدالولی مدقق نے اس بات کا اعتراف کیا کہ غیر قانونی شکار میں اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ’بے شک خوراک اور لطف کے لیے صوبوں میں شکار میں اضافہ ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’ غیر قانونی شکار کی وجہ سے گذشتہ کئی دہائیوں میں ہم بعض جنگلی جانوروں اور پرندوں کے نسل کو کھوہ چکے ہیں لیکن میں اس کی تصدیق نہیں کر سکتا کہ اس میں عرب لوگ ملوث ہیں، حالانکہ میں نے اس کے بارے میں میڈیا میں سنا ہے۔‘

افغان میڈیا نے گذشتہ سال ہیرات میں مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے افراد کا غیر قانونی شکار میں ملوث ہونے کے واقعے کو رپورٹ کیا تھا جس پر حکام نے تحقیقات کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن تحفظِ ماحولیات کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان تحقیقات کا کچھ نہیں بنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Jimfbleak
Image caption پاکستان میں بھی وفاقی حکومت کی طرف سے خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد کو مرغابی کے شکار کی اجازت دی جاتی ہے

حکام کا موقف ہے کہ خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ افغانستان میں ترقیاتی کاموں بشمول زراعت کے شعبے، میں مدد کرنے کے لیے آتے ہیں۔تاہم وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ غیر قانونی شکار کی وجہ سے بھورا اور کالا ریچھ، ایشیائی چیتا، سائبیرین سارس، مصری تتلی اور تلور معدوم ہو رہے ہیں۔

افغانستان میں تقریباً 150اقسام کے جنگلی جانوروں اور پرندوں کو معدوم ہونے والی نسلوں میں شامل کیا گیا ہے۔

پڑوسی ملک پاکستان میں بھی وفاقی حکومت کی طرف سے خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد کو مرغابی کے شکار کی اجازت دی جاتی ہے۔

پاکستان میں آئی یو سی این کے حکام کہتے ہیں کہ’یہ خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔‘ ملک کے ایک عدالت کی طرف سے ایک عبوری حکم نامے کے تحت اس پرندے کے شکار پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق عدالت نے حکومتِ پاکستان سے کہا تھا کہ وہ خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے شکار کا پرمٹ یا اجازت نامہ رکھنے والے 33 افراد کو مطلع کریں تاکہ وہ آئندہ پیشی پر اپنے لیے وکیل کا انتظام کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغانستان میں بھورا ریچھ بھی معدوم ہو رہا ہے

اگر ایسے کام پاکستان میں ہو رہے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ سرحد پار افغانستان میں بھی ایسا ہو رہا ہو۔

افغانستان کے تحفظِ ماحولیات کے قومی ادارے کے نائب سربراہ عبدالولی مدقق نے کہا کہ’یہ ممکن ہے کہ وہ سرحد پار کرکے افغانستان میں آتے ہوں جس کی ہم علاقے میں کشیدگی کی وجہ سے نگرانی نہیں کر سکے لیکن قانونی طور پر ہم نے شکار کی اجازت نہیں دی۔‘

کابل کے چڑیا گھر کے سربراہ عزیز گل ثاقب نے کہا کہ’ہمارے ملک کے بیشتر حصوں میں غیرقانونی طور پر شکار ہو رہا ہے لیکن ہم اس پر قابو نہیں پا سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ’موجودہ حالات میں اس قسم کی کارروائیوں کے خلاف آگاہی پیدا کرنا ہی ہمارا مرکزی اقدام رہا ہے۔‘

اسی بارے میں