مودی کے لیے امریکی پالیسی میں تبدیلی کے اشارے

نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مودی کی قیادت میں ریاست گجرات بھارت میں ایک مضبوط اقتصادی طاقت بن کر ابھری ہے

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان کے مطابق بھارت میں امریکی سفیر نینسی پاول جلد ہی گجرات کے متنازع وزیرِاعلیٰ نریندر مودی سے ملاقات کریں گی۔

یہ اقدام مودی کی جانب سے امریکی موقف میں اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مودی بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیرِ اعظم کے عہدے کے امیدوار ہیں اور امریکہ طویل عرصے سے نریندر مودی کو ویزا دینے سے انکار کرتا رہا ہے۔

واشنگٹن میں وزارت خارجہ کے ایک افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات کے لیے وقت طے کیا جا رہا ہے۔ امریکی اہل کار کا کہنا تھا کہ ’یہ امریکہ بھارت کے تعلقات کے فروغ کے سلسلے میں سینیئر سیاستدانوں اور تاجروں سے ملنے کی مہم کا حصہ ہے جو گذشتہ سال نومبر میں شروع ہوئی تھی۔‘

امریکی انتظامیہ نے سنہ 2005 میں نریندر مودی کے ویزا کی درخواست کو مسترد کر دیا تھی۔

مودی کے سلسلے میں امریکہ کے علاوہ یورپی یونین کا رویہ بھی سخت رہا تھا۔ اگرچہ ان کے رویے میں حال میں نرمی آئی ہے اور برطانوی اور دیگر یورپی سفارت کاروں نے گجرات کے وزیراعلیٰ سے ملاقاتیں کی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نریندر مودی پر الزام ہے کہ انھوں نے گجرات میں 2002 کے فسادات کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا تھا

نریندر مودی پر الزام ہے کہ انھوں نے گجرات میں سنہ 2002 کے فسادات کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا تھا۔ ان فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

مودی نے ہمیشہ ان الزامات سے انکار کیا ہے۔

یہ فسادات ایک ٹرین میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد شروع ہوئے تھے اس ٹرین میں ہندو یاتری سوار تھے اور اس آگ کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا گیا تھا۔

ان فسادات کے بعد مغربی ممالک کی کئی حکومتوں نے مودی کی حکومت سے تعلقات قطع کر لیے تھے اور امریکہ نے ان کے ویزے پر پابندی لگا دی تھی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس ہفتے مسٹر مودی سے ہونے والی اس ملاقات کا مقصد نریندر مودی کے ساتھ امریکی فاصلوں کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی مئی میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔

نریندر مودی کی قیادت میں ریاست گجرات بھارت میں ایک مضبوط اقتصادی طاقت بنتی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کے کسی بھی منتخب رہنما سے ملنے کے لیے تیار ہیں

نریندر مودی نے گجرات کے فسادات کے بارے میں نہ تو آج تک افسوس ظاہر کیا ہے اور نہ ہی کبھی معافی مانگی ہے۔ ان فسادات کے بارے میں سنہ 2008 میں کی جانے والی تحقیقات میں مودی کے خلاف کوئی شہادتیں سامنے نہیں آئیں تاہم ان کی نزدیکی ساتھی مایا کوندانی کو اگست 2012 میں 28 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے بھارت اور امریکہ کے تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں اور اسے زیادہ تر امریکی ممبران پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔

لیکن کچھ اانسانی حقوق کے ادارے اور رہنما نریندر مودی کے ساتھ نزديكيوں کے خلاف ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پاول کی مودی کے ساتھ ملاقات سے یہ پیغام جائے گا کہ امریکہ ان کے لیے ویزا جاری کرنے کے لیے تیار ہے۔

گذشتہ سال بھارت کے دورے پر آنے والے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی کہا تھا کہ وہ مستقبل میں مودی سے ضرور ملنا چاہیں گے۔

جب کیمرون سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ مودی سے ملاقات کریں گے تو انھوں نے کہا تھا: ’مستقبل میں ہم تمام سیاستدانوں اور رہنماؤں سے ملنا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’یہ بھارت کے لوگوں کو طے کرنا ہے کہ وہ کسے منتخب کرتے ہیں، میں کسی بھی منتخب کردہ رہنما سے ملنے کے لیے تیار ہوں۔‘

اسی بارے میں