بھارت میں کروڑوں ڈالر کی مِس کالز

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت میں فون کی ٹیکنالوجی کے ایسے انوکھے استعمال سامنے آ رہے ہیں جو شاید فون بنانے والی کمپنیوں نے سوچے بھی نہیں ہوں گے

بھارت میں موبائل فونز کے 90 کروڑ صارفین ہیں جن میں بہت سے اسے صرف کال کرنے یا میسج دینے کے لیے استعمال نہیں کرتے۔

بھارت کے کروڑوں لوگوں کے لیے ان کے گھروں میں جدید ٹیکنالوجی کی ایک ہی شکل پائی جاتی ہے اور وہ ہے موبائل فون۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا میں موبائل فونز کی سب سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہوئی اس منڈی میں لوگوں نے اس ٹیکنالوجی کے انوکھے استعمال ڈھونڈ لیے ہیں۔

مِس کال

ایک یا دو رِنگز کے بعد کال ختم کر دینا، یعنی کسی کو ’مِس کال‘ دینا بھارت میں بہت ہی مقبول ہے، اور یہ تکنیک اکثر اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب آپ چاہتے ہیں کہ ’پیغام‘ تو پہنچ جائے مگر پیسے خرچ نہ ہوں۔

یہ سہولت بچے اپنے والدین سے اور ملازمین اپنے باس سے ’گفتگو ‘ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

مارکیٹنگ کے مقاصد کے لیے مِس کالز بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔ اسی طرح کچھ ٹی وی چینل بھی یہ سہولت دیتے ہیں کہ اپنے ناظرین کو ان کے پسندیدہ شو شروع ہونے سے پہلے مِس کال دے دیں۔

اگرچہ مِس کال کا رواج افریقہ، فلپائن اور بنگلہ دیش میں بھی مقبول ہے لیکن بھارت میں اب یہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں مِس کالز کے کاروبار کی کل مالیت دس کروڑ ڈالر ہے۔

دہلی میں مقیم ٹیکنالوجی کے بارے میں لکھنے والے پراسانتو کے رائے کا کہنا ہے کہ ’زِپ ڈائل‘ نامی ایک نئی کپمنی ایک سو سے زیادہ بڑی بڑی کمپنیوں کو یہ سہولت دی ہے۔ پراکٹر اینڈ گیمبل، کیڈ بری، کولگیٹ اور ڈزنی جیسی کمپنیوں کے صارفین زپ ڈائل کی مہیا کردہ مس کالز کی سہولت کے ذریعے اپنی پسندیدہ مصنوعات کے لیے آرڈر دے سکتے ہیں، کوئی نمونہ منگوا سکتے ہیں اور مصنوعات کے بارے میں اپنی رائے بھی دے سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ سیاسی جماعتیں بھی مس کالز کی سہولت سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ بھارت کے سیاسی منظرنامے پر ابھرنے والی سب سے نئی ’عام آدمی پارٹی‘ نے گذشتہ ماہ اپنی رکن سازی کی مہم کے لیے شہریوں پر زور دیا کہ وہ پارٹی کے فون نمبر پر مِس کالیں دیں۔ ایسی مِس کالز کے جواب میں پارٹی کے کارکن آپ کے نمبر پر کال کر کے آپ کے کوائف حاصل کر سکتے ہیں اور آپ کو باقاعدہ رکن بنا سکتے ہیں۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ایک ماہ سے بھی کم مدت میں سات لاکھ سے زائد لوگوں کو مس کالز کے ذریعے پارٹی میں شامل کیا۔

ٹارچ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارت میں گلیوں میں روشنی کے خراب انتظام اور بار بار بجلی کی فراہمی منقطع ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ ٹارچیں استمعال کرتے ہیں۔ چنانچہ جب ’نوکیا‘ نے اپنے مشہور ماڈلوں میں ٹارچ کا اضافہ کیا تو نوکیا ایک دم ہِٹ ہو گیا اور اس کی دیکھا دیکھی بقیوں کمپنیوں نے بھی ٹارچ والے فون مارکیٹ میں لانا شروع کر دیے۔ حتیٰ کہ چین کے بنے ہوئے غیر معروف موبائل فونز بھی ٹارچ کی سہولت کی وجہ سے دھڑا دھڑ بکنا شروع ہو گئے۔

یہی وجہ ہے جب سمارٹ فونز مارکیٹ میں آئے تو انھوں نے ایف ایم فون جیسے فیچر تو ختم کر دیے لیکن ٹارچ کی سہولت نہ صرف برقرار رکھی، بلکہ ٹارچ کا بٹن کیمرے کے بٹن کے ساتھ ہی رکھا تا کہ صارفین آسانی سے ٹارچ آن کر سکیں۔

ریڈیو

ملک میں دو سو سے زائد ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کی موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ بھارت میں سامعین کے پاس کئی قسم کے پروگرام سننے کے سہولت موجود ہے، لیکن سامعین کی اکثریت یہ پروگرام روایتی ریڈیو سیٹ پر نہیں سنتی۔ لاکھوں لوگ ریڈیو سننے کے لیے بھی اپنے موبائل فونز ہی استعمال کرتے ہیں۔ مارکیٹ میں دستیاب زیادہ تر فونز میں ریڈیو بھی ہوتا ہے۔

اگرچہ کئی نئے سمارٹ فونز میں ریڈیو نہیں ہوتا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے صارفین ایف ایم ریڈیو سنتے ہی نہیں۔ ایسے لوگوں کی اکثریت ’ٹیون اِن‘ جیسی ایپلی کیشنز کے ذریعے ریڈیو سنتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت کے سرکاری آل انڈیا ریڈیو نے ایسی ایپلی کیشن متعارف کی ہے جس کے ذریعے آپ سمارٹ فونز پر سرکاری ریڈیو کی نشریات بھی سن سکتے ہیں۔

اسی طرح کچھ غیر سرکاری تنظیمیں بھی دور دراز قبائلی علاقوں میں خبریں اکٹھی کرنے اور پھر اپنے بلیٹن نشر کرنے کے لیے موبائل فونز استعمال کر رہی ہیں۔ دیہاتی کال کر کے اپنے گاؤں کی مختصر خبر موبائل پر ریکارڈ کر دیتے ہیں جسے غیر سرکاری تنظیم کے کارکن ’شہریوں کی خبریں‘ کے نام سے اپنی ویب سائٹ پر چڑھا دیتے ہیں۔ جو لوگ یہ خبریں سننا چاہتے ہیں وہ اپنے موبائل فون سے ایک مفت نمبر ملا کر شہریوں کی بھیجی ہوئی خبریں ان کی اپنی آواز میں سن لیتے ہیں۔

یو ٹیوب کا بدل

’ایکسس ایگری کلچر‘ اور ’ڈجیٹل گرین‘ جیسی کسانوں کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنطیموں نے ’کال اِن‘ کی ایک اور سہولت بھی متعارف کرائی ہے جس میں کسان اور دوسرے غریب دیہاتی ویڈیوز کی آڈیوز سن سکتے ہیں۔

یہ تنظیمیں نئی ویڈیوز بنانے اور انہیں شیئر کرنے میں کسانوں کی مدد کرتی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس سہولت سے وہی فائدہ اٹھا سکتا ہے جس کے پاس انٹرنیٹ ہو۔ ان کے لیے اس میں کیا ہے جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے ہی نہیں یا کنیکشن ٹھیک نہیں؟

ویڈیو نہ سہی، یہ لوگ اپنے موبائل فونز سے آواز تو سن سکتے ہیں۔انہیں صرف ایک نمبر پر کال کرنی ہے اور اپنی پسند کی ویڈیو کا انتخاب کرنا ہے۔ تنظیم کے لوگ انھیں ’کال بیک‘ کریں گے اور وہ اپنی پسندیدہ ویڈیو کی آڈیو سن لیں گے۔

سکین اور کاپی کرنے کی سہولت

بھارت میں موبائل فونز کے جو نت نئے استعمال سامنے آئے ہیں ان میں سب سے زیادہ مقبول اسے دستاویزات کو سکین کرنا یا ان کی تصاویر اتارنا شامل ہے۔ مثلاّ وہ لوگ جو بینک سے قرضہ لینے کے فارم یا سرکاری شناختی کارڈ کے فارم پُر کرتے ہیں وہ اپنے پاس فارم کی ایک کاپی بھی رکھنا چاہتے ہیں۔ اب ہر جگہ فوٹو کاپی کی سہولت تو ہو نہیں سکتی۔ اس کا آسان ترین حل یہی ہے کہ آپ موبائل فون سے فارم کی تصویر لیں اور اسے رسید کے طور پر اپنے پاس محفوظ کر لیں۔

بھارت میں طلبہ بھی اپنے نوٹس سکین کر کے موبائل میں رکھ لیتے ہیں۔آپ کو دلّی کی میٹرو ٹرین پر کئی ایسے طلبہ نظر آئیں گے جو اپنے موبائل فونز کی چھوٹی چھوٹی سکرینوں پر لکھے نوٹس یاد کر رہے ہوں گے۔