’آزادی اظہار قانون میں ممکن نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Penguin India
Image caption آخری شکست اس کتاب کے اصل وِلن یعنی بھارتی قانون کے ہاتھوں ہوئی: وینڈی ڈونیگر

امریکی مصنفہ وینڈی ڈونیگر کی کتاب کی اشاعت روکنے کے فیصلے پر ادیبوں اور ناشر برادری کی شدید مذمت کے بعد ’پینگوئن‘ کا کہنا ہے کہ قانونی جنگ سے ہاتھ کھینچ لینے کی وجہ بھارتی قانون ہے۔

مشہور ناشر نے جمعے کو کہا کہ وہ وینڈی ڈونیگر کی کتاب ’ہندوازم: این آلٹرنیٹو ہسٹری‘ (ہندومت کی متبادل تاریخ) کو شائع کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں، لیکن برطانوی راج کا ایک قانون ان کی راہ میں حائل میں ہے۔ پینگوئن کے مطابق تعزیراتِ ہند کی دفعہ 295A کی موجودگی میں بھارت میں کسی بھی ناشر کے لیے بہت مشکل ہے کہ وہ آزادیِ اظہار کے بین الاقوامی معیارات کو قائم رکھ سکے۔

بھارت کے مشہور روزنامے ’دی ہندو‘ کے مطابق ہندو تنظیم ’شکشا بچاؤ آندولن سمیتی‘ نے مذکورہ کتاب کی اشاعت کے خلاف یہ کہہ کر مقدمہ دائر کر رکھا تھا کہ اس کتاب میں ہندو دیوتاؤں کی توہین کی گئی ہے اور ہندو مذہب کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ شکشا بچاؤ آندولن کا کہنا ہے کہ مصنفہ نے اپنی کتاب میں ’ہندو دیوی دیوتاؤں کو انتہائی جنسی انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب گندگی سے بھری ہوئی ہے۔ اس سے ہمارے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچی ہے۔‘

گذشتہ تین دنوں سے ادبی حلقوں میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ پینگوئن نے ہندو تنظیم کے ساتھ ماورائے عدالت کوئی مفاہمت کر لی ہے۔ جمعے کو اپنی خاموشی توڑتے ہوئے ناشر کا کہنا تھا کہ ’ ہم ’’ہندو‘‘ کو شائع کرنے کے اپنے ابتدائی فیصلے پر اسی طرح قائم ہیں جیسے ہم اس فیصلے پر قائم ہیں کہ ہم مستقبل میں ایسی کتابیں شائع کرتے رہیں گے جو ہمارے قارئین کے کچھ حلقوں کے لیے ناگوار ہو سکتی ہیں۔‘

بھارت میں اشاعت سے متعلق قوانین میں موجود مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے پینگوئن انڈیا نے کہا کہ ’تعزیراتِ ہند، اور خاص طور پر اس کی شق نمبر 295A کسی بھی بھارتی ناشر کے لیے یہ بات مشکل بنا دیتی ہے کہ وہ ملکی قوانین کے دائرۂ کار سے روگردانی کیے بغیر آزادیِ اظہار کے بین الاقوامی معیارات کو قائم رکھے۔ ہمارے خیال میں یہ معاملہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے نہ صرف آپ کی تخلیقی آزادی پر قدغن لگتی ہے بلکہ آپ کے بنیادی انسانی حقوق کا دفاع بھی متاثر ہو سکتا ہے۔‘

پینگوئن پر تنقید ہو رہی تھی کہ انھوں نے اپنی قانونی چارہ جوئی کو ایک ذیلی عدالت تک ہی محدود رکھا اور اسی سطح پر کتاب کی اشاعت کے مخالفین کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا۔ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا یہ سمجھوتہ چار سالہ طویل عدالتی جنگ کے بعد ہوا ہے جس کے دوران ان کا مقصد یہی تھا کہ مذکورہ کتاب کے انڈین ایڈیشن کا دفاع کیا جائے۔

Image caption پینگوئن انڈیا پر تنقید کرنے والے ادیبوں میں ارون دھتی رائے بھی شامل ہیں

ادارے کا کہنا تھا کہ وہ دنیا بھر میں کسی بھی فرد کی سوچ اور اظہار کی آزادی کا ہمیشہ دفاع کریں گے اور ’جب بھی موزوں ہُوا، ہم اپنے اس عزم کے دفاع کے لیے عدالت میں جانے سے کبھی بھی نہیں ہچکچائے۔ تاہم کسی بھی دوسری تنظیم یا ادارے کی طرح ہمیں بھی ملک کے قوانین کا احترام کرنا ہے، چاہے یہ قوانین کتنے ہی ناقابلِ براداشت اور سخت کیوں نہ ہوں۔ اسی طرح ہم پہ یہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہم اپنے ملازمین کو دھمکیوں سے بچائیں۔‘

ذیلی عدالت میں سمجھوتہ کر لینے کی وجہ سے پینگوئن کو بھارت کے صفِ اوّل کے ان ادیبوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے جن کی تخلیقات پینگوئن خود شائع کر چکا ہے۔ ان میں ارون دھتی رائے، ہاری کنزرو، رام چندرا گُوہا اور ولیم ڈیل رمپل جیسے مشہور ادیب بھی شامل ہیں۔

ان شخصیات کے علاوہ ایک سو ممالک کے ادیبوں کی انجمن ’پین‘ (قلم) کے بھارتی باب نے بھی پینگوئن پر تنقیدی کی ہے۔ جمعرات کو ان کا کہنا تھا کہ ’کسی برے فیصلے کو چیلینج کرنے کی بجائے عدالت سے بالا بالا دوسرے فریق سے معاملہ طے کرلینے سے بھارت میں نہ صرف آزادی اظہار بلکہ اس کے ادبی بیانیہ (ڈسکورس) کو بھی زِک پہنچی ہے۔‘

عالمی ادبی منظرنامے پر پینگوئن کے بڑے مقام کی وجہ سے ادارے کی عدالت سے باہر مفاہمت کی خبر بین الاقوامی سطح پر بھی بحث کا موضوع بنی ہے۔ اسی لیے امریکہ کے تنقید نگاروں کی انجمن ’نیشنل بُک کرِٹکِس سرکل‘ نے گذشتہ روز پینگوئن انڈیا پر زور دیا تھا کہ وہ ’اپنے افسوسناک فیصلے‘ پر نظرِثانی کرے۔

اس فیصلے کو ’خود ساختہ پابندی‘ قرار دیتے ہوئے انجمن کا کہنا تھا کہ پینگوئن کا یہ اقدام آزادانہ تحقیق کی روایات سے مطابقت نہیں رکھتا، وہ روایات جو جمہوری اداروں کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔‘

جہاں تک خود کتاب کی مصنفہ وینڈی ڈونیگر کا تعلق ہے تو وہ پینگوئن کی تعریفوں کے پُل باندھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ناشرین تو ایسی کتابیں چُپکے سے مارکیٹ سے ہٹا لیتے ہیں، کم از کم پینگوئن نے اس کتاب کو بچانے کی کوشش تو کی۔

’پینگوئن نے اس کتاب کو شائع کرنے کا فیصلہ یہ جانتے بوجھتے کِیا کہ اس پر ’ہندتوا‘ کے حلقوں کو غصہ آئے گا، اور اس ادارے نے چار سال تک عدالت میں کتاب کا دفاع کیا۔‘

مِس ڈونیگر کے مطابق پینگوئن کو آخری شکست ’اس کتاب کے اصل وِلن کے ہاتھوں ہوئی۔ اور اصل ولِن بھارتی قانون ہے جو ہندوؤں کو ناراض کرنے والی کتاب کی اشاعت کو دیوانی معاملے کی بجائے مجرمانہ معاملہ قرار دیتا ہے۔‘

اسی بارے میں