’انقرہ کانفرنس سے تحفظات دور کرنے میں مدد ملی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تین روزہ سربراہی اجلاس میں پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، افغان صدر حامد کرزئی اور ترکی کے صدر عبداللہ گل شریک تھے

پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان تعلقات کا ایک نیا باب شروع کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کوشاں ہیں اور ترکی میں مذاکرات سے تحفظات دور کرنے میں مدد ملی ہے۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق جمعرات کو ترک شہر انقرہ میں سہ ملکی سربراہی اجلاس کے بعد مشترکہ اخباری کانفرنس میں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور ترقی کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

نواز شریف نے کہا کہ’ہم پاک افغان تعلقات کا ایک نیا باب شروع کرنے پر کام کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے افغانستان میں افغان قیادت کی امن اور مصالحت کی کوششوں میں پاکستان کے تعاون کے عزم کو دہرایا اور کہا کہ ان کی حکومت افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسائے والے تعلقات کے فروغ کے لیے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گی۔

تین روزہ سربراہی اجلاس میں پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، افغان صدر حامد کرزئی اور ترکی کے صدر عبداللہ گل شریک تھے۔

اس اجلاس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں تینوں ملکوں نے ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف لڑنے مشترکہ عزم کا بھی اعادہ کیا۔

اس اعلامیے میں پاکستان، افغانستان اور ترکی نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ 2014 کے بعد بھی افغانستان کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے اپنی مدد جاری رکھے۔

اعلامیے میں دنیا سے کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں امن و استحکام کے لیے افغان قیادت کی کوششوں خاص طور پر افغانستان کی اپنی قومی سیکیورٹی فورسز کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔

اس اعلامیے میں افغان طالبان سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ملک میں امن کی کوششوں کا حصہ بنیں۔

مشترکہ اعلامیے میں پاکستان کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کے قیام کی مدت میں دسمبر 2015 تک توسیع کرنے کے فیصلے کو بھی سراہا گیا۔

اسی بارے میں