چین میں ان چاہی اولاد کے لیے حکومتی بچہ گھر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک مرکز میں کام کے آغاز کے ابتدائی دو ہفتوں میں آٹھ بچوں کو چھوڑا گیا تھا

چین میں حکومت نے ملک میں 25 مختلف مقامات پر ایسے مراکز قائم کیے ہیں جہاں والدین اپنے ان نوزائیدہ بچوں کو چھوڑ سکتے ہیں جنھیں وہ پالنا نہیں چاہتے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایسے مزید گہوارہ مرکز قائم کیے جائیں گے تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اِس اقدام سے والدین کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ اپنی ان چاہی اولاد سے تعلق توڑ لیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق چین میں ایسا کوئی مرکز پہلی بار تین برس قبل بنایا گیا تھا اور اب ان کی تعداد دو درجن سے زیادہ ہوگئی ہے۔

چینی حکام نے اس تعداد میں اضافے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔

ان مراکز میں نوزائیدہ بچوں کے لیے انکیوبیٹرز اور ہنگامی الارم کا نظام بھی نصب ہے جس سے سڑک پر چھوڑ دیے جانے والے بچوں کے زندہ رہنے کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق ایسے ہی ایک مرکز میں کام کے آغاز کے ابتدائی دو ہفتوں میں آٹھ بچوں کو چھوڑا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین میں ایک بچہ پالیسی کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور سزائیں دی جاتی ہیں

حکام کے مطابق ان بچوں میں سے زیادہ تر یا تو بہت بیمار تھے یا پھر معذور۔

اس کے علاوہ بہت سے بچوں کے والدین اس پیغام کے ساتھ انھیں ان مراکز میں چھوڑ گئے کہ وہ غربت کی وجہ سے ان کی کفالت نہیں کر سکتے۔

واضح رہے کہ چین میں سنہ 1970 میں بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے ایک خاندان ایک بچہ پالیسی کا نفاذ کیا گیا تھا جس کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور سزائیں دی جاتی ہیں۔

تاہم ملک میں یہ پالیسی تیزي سے غیر مقبول ہوئی اور اب ملک کے سیاسی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ ملک میں نوجوان آبادی کی کمی کے سبب کارکنوں کی تعداد میں کمی نہ آ جائے۔

اسی بنا پر حال ہی میں چینی قانون ساز اسمبلی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی نے ایک بچہ پالیسی میں نرمی کی تجاویز کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

اس نرمی کے تحت اس خاندان کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دی گئی ہے جس میں والدین میں کوئی ایک خود بھی اکلوتی اولاد ہو۔

اسی بارے میں