کانگریس پارٹی آج بھی 1984 قتل عام کے بھنور میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دہلی میں کم از کم 3000 سکھ قتل ہوئے اور اس وقت کی حکمراں جماعت کانگریس پر اس قتل عام کو بڑھاوا دینے کا الزام عائد کیا جاتا ہے

بھارت کے دارالحکومت دہلی کے مضافاتی علاقے ترلوکپوری کے ایک گردوارے میں شام کی عبادت جاری ہے لیکن یہ گردوارہ خالی ہے۔ گردوارے میں سنتوک سنگھ سکھوں کی مذہبی کتاب گرنتھ پڑھ رہے ہیں۔

سنتوک سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ گردوارہ کبھی لوگوں سے بھرا ہوتا تھا لیکن نسلی فسادات کے باعث گذشتہ کئی سالوں سے خالی پڑا ہے۔

ترلوکپوری کی تنگ گلیاں 1984 میں بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی عینی شاہد ہیں۔ اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ محافظوں نے گولیوں مار کر قتل کر دیا تھا۔

آج اس گردوارے کو ’شہدا کا مندر‘ کہا جاتا ہے۔ دہلی میں کم از کم 3000 سکھ قتل ہوئے اور اس وقت کی حکمراں جماعت کانگریس پر اس قتل عام کو بڑھاوا دینے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

اس قتل عام میں آج تک کسی کو بھی انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔

لیکن جلد ہی ہونے والے عام انتخابات میں یہ قتل عام دوبارہ اہمیت پکڑتا جا رہا ہے۔ سکھ برادری کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات میں حال ہی میں وجود میں آنے والی ’عام آدمی‘ جماعت کو ووٹ دے گی کیونکہ اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس قتل عام کی تحقیقات دوبارہ سے کرائے گی۔

یہ گردوارہ ترلوکپوری کے اس علاقے میں واقع ہے جہاں سب سے زیادہ سکھوں کو قتل کیا گیا۔ سنتوک سنگھ کا کہنا ہے: ’لوگ سمجھے کہ گردوارہ محفوظ ترین جگہ ہے۔ لیکن اس وقت اس گردوارے کی دیواریں اتنی اونچی نہیں تھیں اور مشتعل ہجوم ہر طرف سے دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوگیا۔ ہجوم نے کسی کو نہیں بخشا اور یہ احاطہ لاشوں سے بھر گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکھ برادری کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات میں حال ہی میں وجود میں آنے والی ’عام آدمی‘ جماعت کو ووٹ دے گی کیونکہ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس قتل عام کی تحقیقات دوبارہ سے کرائے گی

دہلی پولیس پر الزام لگایا جاتا ہے کہ نہ صرف اس نے اس قتل عام کو روکا نہیں بلکہ اس میں مدد بھی کی۔ چند اطلاعات کے مطابق تو ووٹرز لسٹ سے اس بات کی نشان دہی کی گئی کہ سکھ افراد کہاں کہاں رہائش پذیر ہیں۔

پرتشدد کارروائیوں کے چار روز گزرنے کے بعد جب بھارتی فوج نے امن و امان کی ڈیوٹی سنبھالی تو ترلوکپوری میں 400 سکھوں کا قتل کیا جا چکا تھا۔

اس قتل عام کے بعد ترلوکپوری کے ہزاروں سکھ اپنے ہی شہر میں مہاجرین بن گئے اور کئی سکھ خاندانوں نے تلک نگر کے علاقے میں پناہ لی۔

ان مہاجرین میں سے ایک اتر کور ہیں۔ خستہ حال مکان کی ایک دیوار پر ان کی اپنے شوہر کے ساتھ تصویر لگی ہوئی ہے۔

اتر کور نے کہا: ’جب اندرا گاندھی کو قتل کیا گیا تو ہم بہت غمگین تھے۔ لیکن میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ وہ میرے شوہر کو مجھ سے جدا کر دیں گی۔ ایک مسلمان گھرانے نے مجھے اور میرے بچوں کو پناہ دی۔ انھوں نے ہمیں کہا کہ ہجوم بچوں کو کچھ نہیں کہے گا لیکن جب ہم باہر نکلے تو بچوں کی لاشیں بکھری دیکھیں۔‘

اس قتل عام میں اتر کور کے 11 قریبی رشتے دار قتل کر دیے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق اس قتل عام کے آغاز پر راجیو گاندھی نے اسے روکنے کی کوشش کی کیونکہ رپورٹیں آ رہی تھیں کہ اس میں کانگریس پارٹی کے ممبران بھی شامل ہیں۔

کانگریس جماعت کے سابق ممبر اسمبلی اور وزیر جگدیش ٹایٹلر پر بھی قتل عام کو بڑھاوا دینے کے الزامات عائد ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکھوں نے میرے بارے میں ایسی افواہیں اڑائی ہیں کہ ایک دن میری بیٹی نے سوال کیا کہ پاپا کیا آپ نے سکھوں کا قتل عام کیا۔ کیا آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ یہ سوال میرے لیے کتنی شرمندگی کا باعث تھا؟: جگدیش

جگدیش کے گھر میں آویزاں بلیک اینڈ وائٹ تصاویر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے گاندھی خاندان کے ساتھ خاص روابط ہیں۔

جگدیش ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا جب یہ فسادات شروع ہوئے تو وہ اس وقت اندرا گاندھی کی لاش کے ہمراہ تھے۔

’سکھوں نے میرے بارے میں ایسی ایسی افواہیں اڑائی ہیں کہ ایک دن میری بیٹی نے سوال کیا کہ پاپا کیا آپ نے سکھوں کا قتل عام کیا۔ کیا آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ یہ سوال میرے لیے کتنی شرمندگی کا باعث تھا؟‘

مارچ 2009 میں سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے جگدیش کو ان الزامات سے بّری کر قرار دے دیا۔ لیکن اس حوالے سے شور برپا ہونے پر کانگریس نے چند ہی ہفتوں بعد ان سے پارٹی ٹکٹ واپس لے کر ایک اور امیدوار کو دے دیا۔

اور پچھلے سال دہلی کی عدالت نے سی بی آئی کو حکم دیا کہ اس قتل عام کے سلسے میں جگدیش سے تفتیش دوبارہ کی جائے۔

یہ سکھ وکیل ہروندر سنگھ پھلکا کے لیے ایک چھوٹی سی جیت ہے جو اس کوشش میں ہیں کہ 1984 کے قتل عام کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

ہروندر کا کہنا ہے: ’اگر کبھی متاثرین نے اپنی شکایت میں کانگریس کے رہنما یا کسی پولیس افسر کا نام لیا تو وہ کیس رجسٹر ہی نہیں کیا گیا۔ اور اگر کیا گیا تو اس میں سے وہ نام نکال دیے گئے۔‘

لیکن یہ قتل عام اب سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مقابلہ اس بات کا ہے کہ کیا 1984 کا قتل عام بڑا تھا یا 2002 کا گجرات کا قتل عام جس میں 1000 افراد کا قتل ہوا۔ یہ فسادات گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے ہوتے ہوئے ہوئے جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر اعظم کے امیدوار ہیں۔

اسی بارے میں