’ہر مہینے 20 مزدوروں کی لاشیں، پھر بھی تشویش نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پچھلے چار برس سے قطر کی حکومت ہر مہینے اوسطاً 20 لاشیں بھارت بھیج رہی ہے

خلیجی ممالک میں کام کرنے والوں کو کئی طرح کی تفریق کا سامنا کرنا پرتا ہے۔

تعمیراتی سیکٹر میں کام کرنے والے مزدور تو اکثر انتہائی غیر انسانی حالات میں کام کرتے ہیں لیکن جنوب ایشیائی ملکوں کی حالت خود اتنی خراب رہی ہے کہ روزی کی مجبوری میں ان ممالک کے لاکھوں مزدور ، کاری گر اور تعلیم یافتہ باہنر شہری عرب ممالک میں ہر طرح کی مشکلات اور بندشوں کا سامنا کرنے کے باوجود وہاں کام کرتے رہے ہیں ۔

بھارت کے لاکھوں شہری سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عمان اور قطر میں برسوں سے اپنے ہنر اور اپنی مشقت سے ان ملکوں کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔

یوں تو بھارت کے باشندے دنیا کے تقریباً سبھی ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ غیر مالک میں آباد اور کام کرنے والے بھارتیوں کی تعداد اس وقت ڈھائی کروڑ ہے۔

پچھلے تین برس میں غیر ممالک میں آباد ان بھارتیوں نے اپنی محنت اور مشقت کی کمائی سے 190 ارب ڈالر بھارت بھیجے۔ اس میں سے 80 ارب ڈالرصرف خلیجی ملکوں سے آیا۔

یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس برس باہر کام کرنے والے بھارتیوں کے ذریعے بھیجی جانے والی رقم 75 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ اس میں سب سے بڑا حصہ ان بھارتی باشندوں کا ہو گا جو عرب ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔

پچھلے دنوں برطانیہ کے اخبار ’گارڈین‘ نے یہ خبر شا‏ئع کی کہ پچھلے چار برس میں قطر میں بھارت کے 974 تعمیراتی مزدور اور کارکن ہلاک ہوئے۔ اس برس جنوری میں 24 کارکن موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ قطر کی حکومت اور کمپنیاں خاموش ہیں۔

بھارت کی وزارت خارجہ کا کا کہنا کہ پچھلے چار برس میں یہ جو ایک ہزار اموات ہوئی ہیں اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے اور بیشتر اموات فطری وجوہات سے ہوئی ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان اموات کو فطری قرار دینے کے بجائے یہ معلومات فراہم کرے کہ یہ اموات کیا کام کرنے کے مقام پر ہوئیں یا یہ لیبر کیمپ میں غیر انسانی حالات کے سبب ہوئیں۔ سڑک حادثوں میں ہوئیں یا پھر فطری وجوہات سے ہوئیں۔

بھارتی شہریوں کے ساتھ ساتھ قطر میں 2013 میں 185 نیپالی شہری بھی ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی اموات کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ ان میں سے دو تہائی ورکرز اچانک ہارٹ اٹیک سے یا کام کرنے کے مقام پر ہلاک ہوئے۔

نیپالی شہریوں کی اموات کی خبر سامنے آنے کے بعد قطر پر بین الاقوامی سطح پر شدید نکتہ چینی ہوئی تھی اور اس پر زور دیا گیا تھا کہ وہ لیبر قوانین کے بین الاقوامی ضابطوں پر عمل کرے اور کام کرنےکے حالات کو انسان دوست بنائے۔

قطر میں 2022 کے عالمی فٹبال کپ کے لیے بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ قطر کی کمپنیاں ان مزدوروں کو کم اجرت پر رکھنے اور معاوضہ دینے سے بچنے کے لیے انہیں براہ راست بھرتی کرنے کے بجائے مختلف ایجنسیوں کے توسط سے انہیں بھرتی کرتی ہیں۔

کسی حادثے کی صورت میں یہ قطری کمپنیاں ہر طرح کی ذمہ داری سے بچی رہتی ہیں اور بھرتی کرنے والی کمپنیاں فطری موت بتا کر کسی معاوضے کے بغیران کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کر دیتی ہیں۔ غم کے اس ماحول میں وہ لاشیں حوالے کرنے سے پہلے ایک ’نوآبجکشن سرٹیفیکیٹ‘ بھی ورثا سےلیتی ہیں تاکہ وہ قانونی کاروائی نہ کر سکے۔

پچھلے چار برس سے قطر کی حکومت ہر مہینے اوسطاً 20 لاشیں بھارت بھیج رہی ہے۔ ایک بہتر مستقبل کا خواب لاشوں کی شکل میں ان کے ورثا کے حوالے کیا جاتا ہے ۔

پچھلے چار برس میں تقریباً ایک ہزار بھارتی شہری قطر میں موت کا شکار ہوئے ہیں ۔ انہیں فطری موت کا سرٹیفیکٹ دینے والی بھارتی حکومت نے پچھلے پانچ برس میں شاید ہی کبھی کسی معاملے میں قطری حکومت کو چیلنج کیا ہو۔

متاثرین کہتے ہیں کہ ’سمجھ میں نہیں آتا کہ بھارتی سفارت خانہ بھارتیوں کی مدد کے لیے ہے کہ قطر کی حکومت کی تابع داری کے لیے۔‘

اس کے باوجود کہ قطر سے ہر مہینے بیس لاشیں بھارت آتی رہیں۔ یہ سوال نہ کبھی پارلیمنٹ میں اٹھا۔ نہ کبھی یہ خبر بھارتی اخباروں میں شائع ہوئی اور نہ کبھی ٹی وی چینلوں پر اس کا کوئی ذکر ہوا۔

پچھلے دنوں جب ایک بھارتی سفارتکار کو اپنی ملازمہ کو مقررہ کم سے کم اجرت کی نصف تنخواہ دینے اور ویزہ فارم میں جھوٹے اندراج کے الزام میں امریکہ میں گرفتار کیا گیا تو بھارت کے ٹی وی چینلوں پر پندرہ دن تک بحث ہوتی رہی۔ لیکن ایک ہزار مزدوروں کی موت پر پورا بھارت خاموش ہے۔

اسی بارے میں