کشمیر:بھارتی جیل میں پاکستانی قیدی کی ہلاکت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ گذشتہ ایک سال میں جموں کی جیلوں میں پاکستانی قیدی کی ہلاکت کا دوسرا واقعہ ہے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی خطے جموں کی امبھ پھالہ جیل میں سنیچر کی صبح ایک پاکستانی قیدی شوکت علی کی لاش پراسرار حالات میں پائی گئی ہے۔

شوکت علی کا تعلق پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے تھا۔

جیل حکام کاکہنا ہے کہ شوکت علی نے ایک سکارف کو بیت الخلا کی کھڑکی میں لگی لوہے کی سلاخوں سے باندھ کر پھندا بنایا اور خود کشی کر لی۔

بعض پولیس ذرائع نے یہ بھی دعوی کیا کہ شوکت علی کو نشے کی حالت میں پایا گیا۔

یہ گذشتہ ایک سال میں جموں کی جیلوں میں پاکستانی قیدی کی ہلاکت کا دوسرا واقعہ ہے۔

گزشتہ برس مئی میں جموں و کشمیر کی کوٹ بھلوال جیل میں قیدیوں نے حملہ کر کے پاکستانی قیدی ثناءاللہ کو ہلاک کر دیا تھا۔

ان کی ہلاکت کو پاکستانی جیل میں قید بھارتی قیدی سربجیت سنگھ کی ہلاکت کا ردعمل سمجھا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق فی الوقت بھارتی جیلوں میں 396 پاکستانی باشندے قید ہیں جن میں 139 مچھیرے شامل ہیں

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کی جیلوں میں قید ہزاروں قیدیوں بنیادی انسانی ضروریات سے محروم رکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے سینکڑوں شہری ایک دوسرے کی جیلوں میں قید ہیں۔ بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق فی الوقت بھارتی جیلوں میں 396 پاکستانی باشندے قید ہیں جن میں 139 مچھیرے شامل ہیں۔

ان قیدیوں میں سے متعدد جموں و کشمیر کی جیلوں میں بھی قید ہیں۔

جموں کشمیر کی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق یہاں کے 13 قیدخانوں میں قیدیوں کی کل تعداد 9329 ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس کشمیری وکلا کی انجمن کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جموں کشمیر کی جیلوں کا دورہ کرنے کے بعد تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جموں میں قید پاکستانی قیدیوں کو سونے کے لیے بستر فراہم نہیں کیا جاتا۔

بار ایسوسی ایشن نے ایک رٹ درخواست بھی دائر کی تھی جس میں ان قیدیوں کو سرینگر کی سینٹرل جیل منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

تاہم انسانی حقوق کے سرکاری کمیشن نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سینٹرل جیل صرف 300 قیدیوں کے لیے مناسب ہے جبکہ وہاں پہلے ہی 505 افراد قید ہیں۔

اسی بارے میں