انڈیا: ’نازک ہاتھ، کٹھن مزدوری‘

تصویر کے کاپی رائٹ

رادا کا اندازہ ہے کہ وہ گیارہ سال کی ہے، لیکن وہ یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ اس کی عمر کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ تین سال سے کپاس کے کھیتوں میں کام کر رہی ہے۔

’میرے ماں باپ نے مجھے سکول جانے سے روک دیا ہے کیونکہ انھیں کھیتوں میں میری ضرورت ہے۔

میں پودوں سے نر پھولوں کو توڑتی ہوں اور انھیں مادہ پھولوں پر مسلتی ہوں۔ مجھے کھیت سے جھاڑ بوٹیاں بھی صاف کرنی ہوتی ہیں۔‘

رادا نے مذید کہا: ’ شروع میں مجھے انھوں نے دوسرے کھیتوں میں کام کرنے بھیجا۔ وہاں میں روزانہ 120 روپے کماتی تھی۔ اگلے سال سے میں اپنے والدین کے کھیت میں کام کیا کروں گی۔‘

رادا، جس کا تعلق بھارت کی شمال مشرقی ریاست آندھرا پردیش سے ہے، بہت سے دوسرے بچوں کے برعکس ابھی تک سکول بھی جاتی ہے۔

اندازہ ہے کہ بھارت بھر میں اٹھارہ برس سے کم عمر کے چار لاکھ سے زیادہ بچے کپاس کے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔مزدوروں کے حقوق کے امریکی ادارے انٹرنیشنل لیبر رائٹس فورم کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق چار لاکھ بچوں میں نصف ایسے ہیں جن کی عمریں چودہ سال سے کم ہیں۔

کھیتوں میں ان بچوں کا اصل کام مادہ اور نر پھولوں کو آپس میں رگڑ کے پودوں کے درمیان افزائش نسل کرانا ہے۔ یہ ایک محنت طلب کام ہے، تاہم اس سے کسانوں کو بہتر پیداوار ملتی ہے۔

کھیت مالکان کی اکثریت اس کام کے لیے بچوں کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ ان کی انگلیاں نرم ہوتی ہیں اور ان کا قد بھی کپاس کے پودے جتنا ہی ہوتا ہے۔

’جیسا بتاؤ، ویسا ہی کرتے ہیں‘

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ کھیتوں میں کام کرنے والے پانچ سے چودہ سال کے درمیان کی عمر کے بچوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔ حکومت کے مطابق اس تعداد میں مزید بہتری کی خاطر ملک میں ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں لوگوں کو اپنے بچوں کو کام کے لیے نہ بھیجنا پڑے۔

لیکن ملک کے دیہی علاقوں سے گزرنے والے کسی بھی شخص کو صاف نظر آتا ہے کہ کپاس کے کھیتوں میں بچوں سے مزدوری کرائی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سُنال کا ہاتھ سوتی کپڑے کے ایک کارخانے میں ضائع ہو گیا تھا

’ہمارے پاس بہت سے بچے کام کرتے تھے۔ انہیں ہم جیسا بتاتے وہ ویسا کر دیتے ہیں۔‘ آندھرا پردیش کے ایک کسان وینکٹ رام ریڈی کا کہنا تھا کہ ’ جب بارش ہوتی ہے تو ہم انھیں پلاسٹک کی شیٹیں دے دیتے ہیں اور یہ بچے سر پر شیٹیں اوڑھ کر کھیتوں میں کام کرتے رہتے ہیں۔

’آپ بڑی عمر کے مزدوروں سے یہ کام نہیں کروا سکتے۔ وہ لوگ اتنی محنت سے کام نہیں کرتے اور نہ ہی وقت پر پہنچتے ہیں۔ اگرچہ ہم دونوں کو ایک ہی معاوضہ دیتے ہیں لیکن اصل میں بچے ہی ہیں جو لگن اور دیانتداری سے کام کرتے ہیں۔

’ اور بچوں میں بھی لڑکیاں لڑکوں سے بہت اچھا کام کرتی ہیں۔ لڑکے ہر وقت ادھر ادھر بھاگتے رہتے ہیں۔ اگر آپ انہیں ماریں تو وہ کام کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں بہت سے بچے تھے جن میں زیادہ تر لڑکیاں ہوتی تھیں۔ لیکن اب ہمارے مزدور زیادہ تر بالغ لوگ ہیں۔

’ہم نے بچوں کو رکھنا چھوڑ دیا کیونکہ بہت سے لوگ ہمیں دہمکیاں دے رہے ہیں کہ ہمیں مزدور بچوں کو نہیں رکھنا چاہئیے کیونکہ اس سے مسئلہ ہو گا۔‘

’نظروں سے اوجھل‘

کپاس کے کارخانوں کے اندر کی حالت کے بارے میں بھی تحفظات پائے جاتے ہیں۔

پریاس سینٹر فار لیبر ریسرچ اینڈ ایکشن نامی تنظیم سے منسلک پریتی اوزا کا کہنا ہے کہ سنہ 2005 سے کاٹن ملوں میں کام کرنے والے بچوں کی کُل تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ پریتی اوزا نے اپنی عمر کا بڑا حصہ بھارت میں مِلوں میں کام کرنے والے مزدروں کی حالت بہتر بنانے کی کوششوں میں صرف کیا ہے۔

ان کہنا تھا کہ ان کے علاقے کی مِلوں میں کام کرنے والے بچوں کی اکثریت کا تعلق پڑوسی ریاست راجستان سے ہوتا ہے۔’ مِل مالکان اپنے مزدروں کا اندراج نہیں کرتے اور باہر کے لوگوں کو مِل کے اندر نہیں آنے دیتے۔ اس لیے کسی چیز کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے۔‘

سُنال کی عمر سولہ سال ہے۔ وہ اپنے چار بہن بھائیوں اور ماں باپ کے ساتھ گجرات کے ایک چھوٹے سےگاؤں میں دو کمروں کے گہر میں رہتی ہے۔

پچھلے سال ایک مِل میں کام کرتے ہوئے اس کا ہاتھ کٹ گیا تھا۔

’میں صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک کام کرتی تھی۔ مجھے پتا ہی نہیں چلا کب میرا ہاتھ مشین کے اندر چلا گیا۔‘

سُنال کا کچھ علاج بھی کروایا گیا تھا اور اسے ایک لاکھ روپے بھی ادا کیے گئے تھے، لیکن اب وہ کبھی کام نہیں کر پائے گی اور اسے مذید مالی امداد بھی نہیں دی جائے گی۔

مغربی دباؤ

اگرچہ بیرونی ممالک کے دباؤ کی وجہ سے بھارت میں کاٹن کی صنعت سے منسلک مزدوروں کی زندگی میں کچھ فرق پڑ رہا ہے، لیکن ملک کے اندر سے زیادہ دباؤ دیکھنے میں نہیں آ رہا ہے۔

شدید غربت، افراطِ زر، بے روزگاری اور ناکافی قوانین کے ہوتے ہوئے لوگ کیسے اور کیونکر بدلیں گے۔

اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ بھی ہے۔جوں جوں بھارت میں امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے بڑھتے ہوئے متوسط طبقے نے زیادہ کپڑے خریدنا شروع کر دیے ہیں اور خدشہ ہے کہ انھیں اس بات کی شاید فکر نہیں کہ جو کپڑے وہ پہن رہے ہیں وہ کن ہاتھوں سے گذر کر ان تک پہنچ رہے ہیں۔

اسی بارے میں