دباؤ کے آگے نہ جھکیں: دانشوروں کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ Penguin India
Image caption سمیتی کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں ہندو مذہب کے محترم کرداروں کی تذلیل کی گئی ہے اور حقائق کو مسخ کیا گیا ہے

دنیا کے کئی سرکردہ ادیبوں اور مورخین نے پبلشر پینگوئن انڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ اظہار کی آزادی کے تحفظ کے لیے امریکی مورخ وینڈی ڈونیگر کی کتاب ’دی ہندوز‘ پر پابندی لگانے کے مطالبے کے خلاف ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کرے۔

کچھ دنوں پہلے پینگوئن نے ایک ہندو تنظیم کے دباؤ میں اس کتاب کو واپس لینے اور اسے ضائع کرنےکا فیصلہ کیا تھا۔

پریس کو جاری کیے گئے ایک بیان میں دانشوروں اور مورخوں نے ارکان پارلیمان اور ماہرین قانون سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سنجیدہ علمی تحقیق اور فن پاروں کی تخلیق کے تحفظ کے لیے تعزیراتِ ہند کی ان دفعات پر نظر ثانی کریں جن کا فائدہ اٹھا کر علمی اور ادبی تخلیقی کاوشوں پر اکثر پابندی لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پینگوئن انڈیا اور حکومت ہند کو پیش کی جانے والی ایک پٹییشن پر پوری دنیا کے ساڑھے تین ہزار سے زیادہ نامور صحافیوں، ادیبوں، ناشروں اور مورخین نے دستخط کیے ہیں۔

ان میں آشیش نندی، رومیلا تھاپر، پارتھا چٹرجی، لوری پیٹن، شیلڈن پولاک، عرشیہ ستار، ڈیوڈ شولمین اور اننیا واجپئی شامل ہیں۔

اس سے پہلے دس فروری کو پینگوئن انڈیا نے ایک ہندو تنظیم ’شکشا بچاؤ آندولن سمیتی‘ کےساتھ ایک سمجھوتہ کیا تھا جس کے تحت ناشر نے امریکی مورخ وینڈی ڈونیگر کی کتاب ’دی ہندوز - این آلٹرنیٹیو ہسٹری‘ کی فراہمی پر پابندی لگانے اور اسے دکانوں سے واپس منگا کر ضائع کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

سمیتی کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں ہندو مذہب کے محترم کرداروں کی تذلیل کی گئی ہے اور حقائق کو مسخ کیا گیا ہے۔

اس کا یہ بھی کہنا ہے اس میں دیوی دیوتاؤں کو جنسی رنگ میں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جس سے ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ شکشا سمیتی ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس سے قریب بتائی جاتی ہے۔

Image caption امریکی مورخ وینڈی ڈونیگر کی کتاب ’دی ہندوز - این آلٹرنیٹیو ہسٹری‘ کی فراہمی پر روک لگانے اور اسے دوکانوں سے واپس منگا کر ضائع کرنے سے اتفاق کیا تھا

کتاب واپس لینے اور اسے ضائع کرنے کے فیصلے پر شدید ردعمل ہواتھا اور پچھلے ہفتے دو دانشوروں نے احتجاج میں پینگوئن سے اپنا معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔

بہت سے ادیبوں کا خیال ہے کہ پینگوئن نے آئندہ انتخابات میں نریندر مودی کی جیتنے کے امکان کے پیش نظر ہندو نواز گروپوں سے کوئی تصادم مول نہ لینے کی غرض سے یہ غیر معمولی قدم اٹھایا ہے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ناشر کے اس قدم سے دائیں بازو کی تنظیمیں اور عناصر کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

بھارت میں حالیہ برسوں میں ادب اور آرٹ کے سلسلے میں رواداری میں کمی آئی ہے۔ مختلف مذہبی گروپ نہ صرف مخصوص کتابوں، فلموں اور آرٹ کے فن پاروں پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے ناپسندیدہ دانشوروں اور ادیبوں اور مصوروں کو ان کی تقریبات میں پر تشدد احتجاج کرکے شرکت بھی نہیں کرنے دیتے۔

معروف مصور مقبول فداحسین کو ہندو گروپوں کے خطرے کے سبب ملک چھوڑنا پڑا تھا اور بیرون ملک ہی ان کی موت ہوئی۔ جبکہ مسلم گروپوں کے خطرے کے پیش نظر سرکردہ ادیب سلمان رشدی بھارت کی ادبی تقریبات میں شرکت نہیں کر سکتے۔

بھارت میں پناہ لینے والی بنگلہ دیش کی مصنفہ تسلیمہ نسرین کو کئی مسلم تنظیموں سے خطرہ ہے اور ان پر ایک تقریب میں حملہ بھی کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں