بھارت: اقتصادی ترقی کی شرح میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں اس وقت سالانہ ایک کروڑ 30 لاکھ افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے

بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اقتصادی ترقی کی شرح گذشتہ سہ ماہی میں 4.8 کی اوسط سے کم ہو کر 4.7 فیصد ہو گئی ہے۔

اقتصادی ترقی کے یہ اعداد و شمار تجزیہ کاروں کی توقعات سے کم ہیں۔

ایشیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت کی شرح نمو میں یہ کمی غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

سال 2012 میں اسی سہ ماہی میں ترقی کی شرح 4.5 تھی اور یہ مسلسل پانچویں سہ ماہی ہے جس میں ملک کی ترقی کی شرح پانچ فیصد سے کم رہی ہے۔

بھارت میں اس وقت سالانہ ایک کروڑ 30 لاکھ افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

صنعتوں میں ترقی کی شرح 1.9 فیصد کم ہو گئی ہے اور اس شعبے میں روزگار کے سب سے زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

تاہم ہوٹلوں، نقل و حرکت کی سہولیات اور زراعت کے شعبے میں ترقی کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

دو سال پہلے بھارت میں ترقی کی شرح آٹھ فیصد تھی۔ اس وقت ملک کی ایک ارب 20 کروڑ آبادی کا نصف 25 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔

ان میں سے ایک چاند پانڈے کو حال ہی میں کاروں کے پرزے تیار کرنے والی ایک فیکٹری سے نکال دیا گیا ہے اور اب وہ دوسری نوکری کی تلاش میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ’گذشتہ دو سے تین ماہ سے میں جس بھی کمپنی میں بھی جاتا ہوں تو وہاں سے جواب ملتا ہے کہ پیداوار میں کمی کی وجہ سے کسی کو بھی کام پر نہیں رکھ رہے ہیں۔‘

بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی میں بی بی سی کی نامہ نگار یوگیتا لیمائے کے مطابق حکمراں جماعت کانگریس کے لیے اقتصادی ترقی کے اعداد و شمار پریشانی کا باعت ہیں کیونکہ رواں سال مئی میں عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کے لیے امید کی صرف ایک ہی کرن مہنگائی کی شرح میں کمی ہے۔

گذشتہ سال مہنگائی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا تاہم ماہ سے قیمتوں میں استحکام آیا ہے۔

اسی بارے میں