بھارتی مسلمان کس کو ووٹ دیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت کے سولہ کروڑ مسلمان ہندوؤں کے بعد اس ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریتی برادری ہیں

بھارت کے مسلم حلقوں، تنظمیوں، اخباروں اور گھروں میں ان دنوں بس ایک ہی بات موضوعِ بحث ہے کہ کیا مودی واقعی وزیرِ اعظم منتخب ہوجائیں گے اور اگر مودی وزیر اعظم بن گئے تو ان کا مسلمانوں کے ساتھ کیا رویہ کیسا ہو گا۔

مختصر یہ کہ بھارت کے طول و ارض میں اس وقت مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ وہ انتخابات میں کسے ووٹ دیں۔

غالباً یہ پہلا موقع ہے جب بھارت کے مسلمانوں کے سامنے انتخابات میں کوئی واضح تصویر نہیں ہے۔ ایک طرف کانگریس ہے جس سے ملک کی باقی عوام کی طرح مسلمان بھی پوری طرح بیزار ہیں اور لوگوں میں عام تاثر یہ ہے کہ کانگریس آئندہ انتخابات میں اپنی تاریخ کی بدترین شکست سے دو چار ہو گی۔

ریاستی جماعتوں میں ایک لالو پرساد یادو ہوا کرتے تھے جو اپنے بی جے پی مخالف بیانات سے مسلمانوں کا دل گرمایا کرتے تھے تاہم ان دنوں وہ اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔ رہی بات نتیش کمار کی تو وہ پہلے سے ہی شکست خوردہ نظر آتے ہیں۔

اتر پردیش کے ملائم سنگھ یادو کی جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد گذشتہ ڈیڑھ برس میں چھوٹے بڑے پچاس سے زیادہ مذہبی فسادات ہو چکے ہیں۔ مظفرنگر کے فسادات کے بعد مسلمان ملائم سنگھ سے پوری طرح بد ظن ہو گئے ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی کی مایاوتی کا کردار بھی بہت محدود رہا ہے۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کی مقبولیت ملک گیر سطح پر بڑھ رہی ہے۔ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کے پوری طرح بے اثر ثابت ہونے سے مودی کا راستہ اور بھی ہموار ہوتا جا رہا ہے۔

مسلمان بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہمیشہ دور رہے ہیں۔ مسلمانوں کے ذہن میں بی جے پی کا تصور ایک مسلم اور اسلام مخالف جماعت کی رہی ہے۔ بی جے پی نے کبھی اپنے بارے میں اس تصور کو دور کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ایک مرحلے پر بی جے پی کی یہ پالیسی ہوتی تھی کہ اسے مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

رام جنم بھومی کی تحریک کے بعد بی جے پی نے یہ محسوس کیا کہ اکیلے حکومت بنانا مشکل ہے اور اس نے پہلی بار مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش شروع کی۔ لیکن باہمی شکوک کی بنیادیں بہت گہری تھیں۔ گجرات کے فسادات نے بی جے پی اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات پیدا کرنے کی ان ابتدائی کوششوں کو اتنا شدید دھچکا پہنچایا کہ یہ کڑیاں پہلے سے زیادہ بکھر گئیں۔

حالیہ برسوں میں مسلمانوں نے شدت سے یہ محسوس کرنا شروع کیا ہے کہ کانگریس، ملائم سنگھ یادو اور لالو پرشاد یادو جیسے رہنما اور جماعتیں انہیں اپنے انتخابی فائدے کے لیے محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں جبکہ انہیں ان کی ترقی اور خوشحالی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا معاملہ متبادل کا رہا ہے کہ وہ اپنی روایتی وابستگی ختم کر کے کسے ووٹ دیں۔ بی جے پی نے بھی ان کی طرف جو ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی تو وہ بھی بڑی بے دلی سے کی۔

بی جے پی کی طرف سے ملسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کی کبھی کوئی سنجیدہ کو شش بھی نہیں کی گئی۔ کبھی مسلمانوں سے مذاکرات شروع کرنے کا کوئی راستہ نہیں اختیار کیا گیا۔ ساتھ ہی بی جے پی کی انتخابی سیاست اور اپنی حکومتوں میں مسلمانوں کو موزوں نمائندگی بھی نہیں دیتی۔ خود مودی ذاتی طور پر ایک مسلم مخالف رہنما مانے جاتے ہیں۔ ان کے سیاسی استعاروں سے بھی اکثر نفرت کی بو آتی ہے۔

مسلمانوں کی نئی نسل شدت سے یہ محسوس کر رہی ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب موبائل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی طرح انتخاب اور انتخابی موضوعات بھی ایک نئی سطح پر پہنچ رہے ہیں مسلمانوں کو اپنے دائمی عدم تحفظ کے احساس سے نکلنا ہو گا۔ وہ پارلیمانی انتخابات کو ایک چیلنج نہیں بہتر تبدیلی کے ایک سنہری موقع کی طرح دیکھ رہے ہیں ۔انہیں پتہ ہے کہ بھارت کے سولہ کروڑ مسلمان ہندوؤں کے بعد اس ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریتی برادری ہیں۔

اسی بارے میں