مردوں والی بات، لیکن فیصلہ عورتوں کے ہاتھ میں

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER VIKATAN
Image caption پوسٹر میں ایک طرف جے للتا ہیں اور دوسری طرف صدر اوباما سمیت دنیا کے سب سے طاقتور رہنما سر جھکائے کھڑے ہیں

انڈیا میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی’ فولادی مرد’ ہی اگلا وزیر اعظم بنے گا، کوئی ایسا شخص جس کا سینہ 56 انچ کا ہوگا اور جو سینہ پیٹ پیٹ کر دوسرے رہنماؤں کو ان کی نسبتاً کم مردانگی کا احساس دلاتا رہے گا۔

ذرا تصور کیجیے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں وزیر اعظم کی بھرتی کے لیے سیاسی رہنما نیکر بنیان میں لائن لگا کر کھڑے ہوں اور صدر جمہوریہ انچ ٹیپ سے ان کے سینے ناپ رہے ہوں۔

56 انچ کے سینے والے سیاسی رہنما انڈیا میں کم ہی ہیں، اسی لیے کانگریس کو شاید یہ خطرہ ہے کہ صرف بی جے پی کے لیڈر نریندر مودی ہی اس کسوٹی پر پورے اتر سکتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ اسی وجہ سے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی کو’نامرد‘ کہا ہو۔ ان کی مراد کیا تھی وہ ہی جانیں، ہم تو اس بحث اور زبان کی باریکیوں میں پڑنا نہیں چاہتے۔

لیکن سچ یہ ہے کہ الیکشن ابھی ہوا نہیں ہے اور جب ہوگا تو ہو سکتا ہے کہ ’مرد آہن، نارمل مرد اور نا مرد‘ کی بحث میں پڑنے والوں کو ذرا جھٹکا لگے کیونکہ ہندوستان میں ساٹھ کروڑ عورتیں بھی رہتی ہیں اور ان میں سے کم سے کم چار یہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہو سکتی ہیں کہ سینے کی پیمائش سے قطع نظر اگلا وزیر اعظم کون بنے۔

Image caption مایا وتی بھی وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہی ہیں

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے علاوہ باقی تینوں، مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی، تمل ناڈو کی وزیراعلیٰ جے للتا اور اتر پردیش کی سابق وزیراعلیٰ مایا وتی، خود بھی وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھ رہی ہیں۔

ان تین ریاستوں میں لوک سبھا کی 160 سیٹیں ہیں۔ تینوں رہنما ایک پلیٹ فارم پر تو نہیں ہیں لیکن اگر آجائیں اور اگر ان میں سے وہ صرف 70 سے 80 سیٹیں بھی جیت لیں تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

کچھ بھی سے کیا مراد ہے، اس کا اندازہ جے للتا کے کچھ پوسٹروں سے لگایا جا سکتا ہے جن میں یہ سوال پوچھا گیا ہےکہ ملک کا وزیر اعظم کیسا ہونا چاہیے اور اسے دنیا میں کتنی عزت ملنی چاہیے؟

جواب پوسٹر میں ہی موجود ہے۔ ایک طرف جے للتا ہیں، مجسمۂ آزادی کی طرح ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا ہوا، اور دوسری طرف صدر اوباما سمیت دنیا کے سب سے طاقتور رہنما سر جھکائے کھڑے ہیں!

اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے۔ انہیں ایسا وزیر اعظم چاہیے جسے ویزا دینے سے امریکہ انکار کرتا ہو یا وہ کہ جس کے سامنے خود صدر اوباما سر جھکاتے ہوں!

وزیر اعظم کی دوڑ ختم نہیں اب شروع ہو رہی ہے اور اس ریس میں صرف فولادی، نارمل اور باقی تمام اقسام کے مرد ہی نہیں عورتیں بھی حصہ لیں گی!

اسی بارے میں