کنوارپن کے’دو انگلیوں‘ کے ٹیسٹ پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں جنسی زیادتی کے واقعات کی اطلاعات اکثر موصول ہوتی ہیں اور ان واقعات کے خلاف عوامی غم و غصے میں بھی اضافہ ہوا ہے

بھارت کے ایک نجی اخبار کے مطابق وزیر صحت نے کنوارپن معلوم کرنے کے لیے’دو انگلیوں‘سے کیے جانے معائنے پر پابندی لگا دی ہے۔

بھارت میں یہ ٹیسٹ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی متاثرین کا کیا جاتا تھا۔

دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق نئے اصولوں کے تحت اب اس معائنے کو غیر سائنسی قرار دے دیاگیا ہے۔

اخبار کے مطابق نئے اصول بھارت کی کلینکل فورنسک میڈیسن یونٹ کی رکن اندراجیت کھندریکر اور دیگر ماہرین نے تیار کیے ہیں۔

اندراجیت کھندریکر کنوارپن معلوم کرنے کے لیے’دو انگلیوں‘ کے معائنے کو خوفناک اور شرمناک قرار دیا ہے۔

’مشاہدے کے مطابق جنسی زیادتی کی متاثرین کو اس وقت سے عام طور پر خوفناک طریقے سے منفی رویے کا سامنا کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جب وہ پولیس کو فون کر کے اطلاع کرتی ہیں۔

ان کو اکثر اوقات ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملےکے منفی رویے کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

اسی بارے میں