آفریدی کے لیے تالی بجانا کیا اتنا بڑا جرم ہے؟

Image caption کشمیر واپس پہنچنے پر طلبہ نے احتجاجی مظاہرہ کرنے کی کوشش کی

قانون اور بزنس ایڈمنسٹریشن کے طلبہ اعجاز احمد اور متیب احمد کو شاید اندازہ نہ تھا کہ ایشیا کپ مقابلے کے دوران پاکستانی بلے باز شاہد آفریدی کی کارکردگی پر تالیاں بجانا انھیں اس قدر مہنگا پڑے گا۔

یہ دونوں اُن درجنوں طلبہ میں شامل ہیں جنھیں پیر کو مغربی بھارت کے شہر میرٹھ کی سوامی وویک آنند سبھارتی یونیورسٹی کے حکام نے جبری طور ہوسٹل سے باہر کر کے واپس کشمیر روانہ کر دیا۔

کسمپرسی کی حالت میں واپس لوٹنے والے ان طلبہ نے جمعرات کو سری نگر میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کی کوشش کی لیکن انھیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔

تاہم بعض طلبہ نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات کی۔ ان میں سے اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ ’ہم لوگ گھر سے دُور تھے۔ یونیورسٹی میں ہماری اکثریت نہیں ہے۔ یہ سب ہم جانتے ہیں۔ بھارت میچ ہارا تو ہندو طلبہ مشتعل ہوگئے، انھوں نے تشدد کیا، لیکن حد یہ ہے کہ ہمارے خلاف بغاوت کا مقدمہ ہے اور ہمیں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ہم نے تو صرف شاہد آفریدی کے لیے تالی بجائی تھی۔کیا یہ اتنا بڑا جرم ہے؟‘

متیب احمد نے اس موقعے پر بتایا کہ اس یونیورسٹی میں ڈیڑھ سو سے زائد کشمیری طلبہ و طالبات زیرتعلیم ہیں۔ انھوں نے بتایا: ’ہمیں دس منٹ کے اندر اندر سامان باندھنے اور نکل جانے کو کہا گیا۔‘

اعجاز، متیب اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو اب میرٹھ کی مذکورہ یونیورسٹی میں عدم تحفظ کا سامنا ہے۔

انھوں نے بتایا: ’ہمارے مستقبل کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ سیاست کی جا رہی ہے۔ جن لوگوں نے تشدد کیا انھوں نے ہی مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں نکال دیا جائے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے تشدد کرنے والوں کا ساتھ دیا ہے، ایسے میں ہم واپس کیسے جائیں گے۔‘

دریں اثنا وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اپنے محتاط ردعمل میں کہا ہے کہ لڑکوں نے غیرقانونی نہیں بلکہ گمراہ کن حرکت کی ہے جس کی سزا ان کی معطلی یا گھر واپسی نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا: ’مایوس کن پہلو یہ ہے کہ ان طلبہ کو وزیراعظم من موہن سنگھ کے خصوصی سکالرشپ پروگرام کے تحت داخلہ دیا گیا تھا۔‘

عمرعبداللہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اترپردیش کے وزیراعلیٰ اکھلیش یادو کے ساتھ بات کی ہے اور انھیں یقین دلایا گیا ہے کہ طلبہ کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔

کشمیر کے سیاسی حلقوں نے اس واقعے پر سخت برہمی کا مظاہرہ کیا ہے۔

Image caption ابتدائی طور پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر منظور احمد کا کہنا تھا کہ معطلی کا فیصلہ ’احتیاطی تدابیر‘ کے طور پر کیا گیا

اپوزیشن رہنما نعیم اختر نے اس واقعے کے لیے وزیراعلی عمرعبداللہ کو براہ راست ذمہ دار قرار دیا ہے۔ علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق نے یونیورسٹی حکام نے رویہ کو ’نازی طرز عمل‘ قرار دے کر کہا ہے کہ ’کشمیری نہ کشمیر میں محفوظ ہیں اور نہ ہی کشمیر سے باہر‘۔

واضح رہے سینکڑوں کشمیری طلبہ بھارت کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم ہیں۔ ماضی میں بھی ہراساں کیے جانے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ گذشتہ برس حیدرآباد کی ایک یونیورسٹی میں ایک طالب علم کی پراسرار موت کے خلاف کشمیر میں کئی روز تک ہڑتال رہی اور مظاہرے کیے گئے۔

محمد مقبول نامی شہری کا بیٹا بھی ان ہی طلبہ میں شامل ہیں، لیکن ابھی تک گھر نہیں پہنچا۔

محمد مقبول کے مطابق’وہ ڈر گیا ہے۔ اس کو لگتا ہے ہم ناراض ہوں گے اور اس کو ہی قصور وار سمجھیں گے۔‘

واپس لوٹنے والے طلبہ نے بتایا کہ تین روز تک محرومی اور بے بسی کی حالت میں سفر کرنے کے دوران انھیں اس بات کا احساس ہوا کہ’کشمیری کشمیر میں ہو یا کشمیر سے باہر، کشمیری ہونے کی قیمیت اسے بہرحال چکانا پڑتی ہے۔‘

دوسری جانب سینیئر پولیس اہلکار اومكار سنگھ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ سوامی وویک آنند سبھارتي یونیورسٹی کے رجسٹرار پی گرگ کے خط پر بغاوت، مذہب کی بنیاد پر تعصب کو فروغ دینے اور نقب زنی کے الزامات کے تحت نامعلوم طالب علموں پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں