افغانستان: نیٹو حملے میں پانچ افغان فوجی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان سے زیادہ تر غیر ملکی فوجی اس سال کے اختتام تک روانہ ہو جائیں گے اور ملک کی سکیورٹی افغان نیشنل آرمی کے ذمے ہوگی

جمعرات کی صبح مشرقی افغانستان میں نیٹو کے ایک حملے میں کم از کم پانچ افغان فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ لوگر صوبے کے چرخ ضلعے میں پیش آیا ہے۔

نیٹو نے اس ’بدقسمت واقعے‘ کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کی تفتیش کر رہے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے صدر حامد کرزئی شدید ناخوش ہوں گے کیونکہ وہ بین الاقوامی فضائی کارروائیوں کے خلاف رہے ہیں کیونکہ ان میں افغان شہری ہلاک ہوتے ہیں۔

افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان زاہر آزمی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ گذشتہ شب کے حملے میں پانچ فوجی ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

ضلعی گورنر خلیل اللہ کمال نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور ان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ امریکی ڈرون طیارے کی مدد سے کیا گیا ہے۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ چوکی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس چوکی میں پہلے امریکی فوجی ہوتے تھے تاہم ان کی رخصتی کے بعد افغان نیشنل آرمی نے اسے سنبھال لیا تھا۔

نیٹو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئیساف اپنے افغان ساتھیوں کے ساتھ مضبوط رشتے کی قدر کرتی ہے اور ہم اس بات کا تعین کریں گے کہ ایسے کون سے اقدامات کیے جائیں جن سے ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

افغانستان سے زیادہ تر غیر ملکی فوجی اس سال کے اختتام تک روانہ ہو جائیں گے۔

صدر حامد کرزئی نے امریکہ کے ساتھ باہمی سکیورٹی کے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر رکھا ہے جس کے تحت اس سال کے اختتام کے بعد افغانستان میں بین الاقوامی فوجیوں کی ایک محدود تعداد افغانستان میں رہ سکے گی۔

اسی بارے میں