پاک بھارت میچ؟ نجی یونیورسٹی کی چھ طلبہ کے خلاف ’تادیبی کارروائی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption جن چھ طالب علموں کو ہاسٹل سے نکالا گیا ہے ان میں آپس میں تنازع ہوا تھا: یونیورسٹی

بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ایک اور یونیورسٹی نے ایشیا کپ میں بھارت اور پاکستان کے کرکٹ میچ دیکھنے کے دوران ہوئے تنازعے کے بعد بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے طالب علموں کے ساتھ کچھ اور طالب علموں پر تادیبی کارروائی کی ہے۔

جن چھ طالب علموں کو ہاسٹل سے نکالا گیا ہے ان میں چار بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ہیں اور دو کا تعلق اتر پردیش سے ہے۔

شاردا یونیورسٹی کے ڈین سٹوڈنٹ ویلفیئر رنویر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ’دو مارچ کو بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ کے دوران کچھ طالب علموں نے دوسری طرف یعنی پاکستان کی حمایت کی تھی جس کے بارے میں معمولی تنازع ہوا تھا۔‘

تاہم رنویر سنگھ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ طالب علموں پر کارروائی پاکستان کی حمایت کرنے کی وجہ سے کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن چھ طالب علموں کو ہاسٹل سے نکالا گیا ہے ان میں آپس میں تنازع ہوا تھا۔

سوشل میڈیا پر مخالفت

تاہم رنویر سنگھ یہ ضرور مانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر واقعے کی مخالفت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا ’حال ہی میں میرٹھ میں ایک یونیورسٹی نے اپنے طالب علموں پر پاکستان کی حمایت کرنے کی وجہ سے کارروائی کی جس کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ طلبا نے سوال اٹھایا تھا کہ شاردا یونیورسٹی کیوں کارروائی نہیں کر رہی ہے۔‘

رنویر سنگھ نے بتایا کہ شاردا یونیورسٹی میں تقریباً 150 کشمیری طالب علم ہیں۔ یونیورسٹی کے مطابق طالب علموں کو صرف ہاسٹل سے نکالا گیا ہے جبکہ ان کی تعلیم جاری ہے۔

ایشیا کپ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دو مارچ کو ہوئے ایک دلچسپ مقابلے میں پاکستانی بلے باز شاہد آفریدی نے آخری اوور میں دو چھکے لگا کر بھارت کے ہاتھوں سے میچ چھین لیا تھا۔

یاد رہے کہ بھارت کی ریاست اترپردیش میں ایک یونیورسٹی نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حمایت کرنے پر 60 کشمیری طلبہ کو معطل کر دیا ہے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے طالب علم اترپردیش کی سوامی ویویکناد سبھارتی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔

میچ میں پاکستان کی جیت پر کشمیری نوجوانوں نے جشن منایا اور دیگر ساتھی طلبا سے بحث کی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کو معطل کر کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ان طلبہ پر بغاوت کا الزام عائد کیا گیا تھا لیکن یہ الزام واپس لے لیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہےکہ ابتدائی تفتیش میں ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے جن پر ان طلبہ کے خلاف بغاوت کے سنگین الزام کے تحت مقدمہ قائم کیا جا سکے۔

اسی بارے میں