کیا افغانستان کو حقیقت میں فتح نہیں کیا جاسکتا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بظاہر تو ان دونوں فوجی مداخلتوں کا موازنہ بنتا نہیں کیونکہ روسی فوج سوویت اثر ورسوخ کو وسیع کرنے کے لیے آیی تھی جبکہ کہا جاتا ہے کہ امریکی فوج ستمبر گیارہ کے حملوں کے دہشت گردی کے خاتمے اور جمہوریت کو تقویت دینے آئی ہے

افغانستان سے روسی فوج کے انخلا کو پچیس سال ہو گئے ہیں۔ اس سال کے آخر میں امریکہ اپنی زیادہ تر فوجیں نکال لے گا۔ تو روس اور امریکی فوجوں کی افغانستان میں آمد اور انخلا اور دیگر اس قسم کی مہم جوئیوں سے ہم نے کیا سیکھا ہے؟

پچھلے رمضان میں میں قندھار میں وہ مکان دیکھنے گیا جہاں افغان صدر حامد کرزئی کا بچپن گزرا۔ میرے میزبان حامد کرزئی کے بھائی محمود کرزئی تھے۔

قندھار کے گاؤں کرز سے گزرتے ہوئے محمود کرزئی نے کہا ’یہ بہت زیادہ تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ مسجد مجھے یاد ہے۔ ہم یہاں کھیلا کرتے تھے۔ لیکن ہمارا مکان کہاں ہے؟‘

ڈرائیور نے ایک جگہ گاڑی روکی۔ محمود نے کہا ’کیا یہ ہمارا مکان ہے؟ نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔‘

محمود کے محافظوں نے اپنی پوزیشنیں سنبھالی اور محمود ایک اونچی جگہ پر چڑھے اور آس پاس دیکھنے لگے۔ انہوں نے ایک خالی جگہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’ہاں ڈرائیور درست ہے۔ یہ ہمارا مکان ہے۔‘

میں نے پوچھا ’کیا ہوا اس کو؟‘

ان کا جواب تھا ’روسی فوج۔‘

میں نے پوچھا ’کیوں؟‘

محمود کرزئی نے کہا ’مجاہدین میں جس قبیلے کا بھی اثر و رسوخ تھا ان کے مکانات منہدم کردیے جاتے تھے۔ ہمارے مکان میں ہمارے رشتے دار رہتے تھے۔ جس رات روسی گورنر نے ہمارا مکان منہدم کیا اس نے ہمارے تمام رشتے داروں کو قطار میں کھڑا کیا اور سب کو گولی مار دی۔‘

روسی فوج کے انخلا کے 25 سال مکمل ہونے پر یہ اچھا موقع ہے کہ روسی فوج اور امریکی فوجی کارروائی کا موازنہ کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس نے سالانہ دو بلین ڈالر خرچے جبکہ امریکہ ابھی تک 700 بلین ڈالر حرچ کرچکا ہے

بظاہر تو ان دونوں فوجی مداخلتوں کا موازنہ بنتا نہیں کیونکہ روسی فوج سوویت اثر ورسوخ کو وسیع کرنے کے لیے آیی تھی جبکہ کہا جاتا ہے کہ امریکی فوج ستمبر گیارہ کے حملوں کے دہشت گردی کے خاتمے اور جمہوریت کو تقویت دینے آئی ہے۔

لیکن کچھ مماثلتیں بھی ہیں۔

روس اور امریکہ دونوں یہ سمجے تھے کہ وہ افغانستان میں داخل ہوں گے، ایک اتحادی حکومت بنائیں گے اور ایک سال میں واپس چلے جائیں گے۔ لیکن دونوں ممالک ہی ایک لمبی اور مہنگی جنگ میں پھنس گئے اور آخر میں دونوں ہی نے اس ملک سے نکل جانے کا فیصلہ کیا۔

روس کی مداخلت جانی نقصان کے حوالے سے زیادہ نقصان دہ تھی جس میں پندرہ لاکھ ہلاکتیں ہوئیں جبکہ امریکی فوج کی مداخلت کے دوران تقریباً ایک لاکھ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ لیکن امریکی فوج کی مداخلت زیادہ مہنگی ہے۔

روس نے سالانہ دو بلین ڈالر خرچے جبکہ امریکہ ابھی تک 700 بلین ڈالر حرچ کرچکا ہے۔

روسی فوج کے انخلا کے وقت نجیب اللہ کی ایک مستحکم روس کی حمایتی حکومت موجود تھی اور جو اس وقت گری جب چار سال بعد روس نے افغان حکومت کو ہتھیار دینے بند کردیے۔

لیکن امریکہ کے تیرہ سالوں کے بعد ایک ایسے وقت پر انخلا ہو رہا ہے جب امریکہ کا ایک بھی مقصد پورا نہیں ہوا۔

القاعدہ افغانستان سے یا تو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہو گئی ہے یا کہیں اور چلی گئی ہے۔ طالبان ملک کےجنوبی حصے کے 70 فیصد علاقے پر قابض ہیں۔

پچھلے پانچ سالوں سے میں برطانیہ اور افغانستان کے درمیان پہلی جنگ کی تاریخ لکھ رہا ہوں جو 1842-1839 میں لڑی گئی۔

تاریخ سے معلوم چلا ہے کہ اس وقت دنیا کی طاقتور ترین فوج کو ان قبائلی جنگجووں کے ہاتھوں بدترین شکست ہوئی جن کے پاس باقاعدہ ہتھیار بھی نہیں تھے۔

چھ جنوری 1842 میں جب 18500 برطانوی فوجی کابل سے نکلے ہیں تو صرف ایک برھانوی شہری اسسٹنٹ سرجن ڈاکٹر برائڈن جلال آباد کے راستے چھ روز بعد زندہ نکل پائے۔

امریکی جنگ اور 1840 کی جنگ کے درمیان مماثلت یہ ہے کہ دونوں جنگوں میں جن شہروں میں فوجی اڈے قائم کیے گئے وہ ایک ہی ہیں، اس وقت اور آج کے فوجی ایک ہی زبان بولتے ہیں اور ان پر انہی پہاڑوں اور دروں سے حملہ کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چھ جنوری 1842 میں جب 18500 برطانوی فوجی کابل سے نکلے ہیں تو صرف ایک برھانوی شہری اسسٹنٹ سرجن ڈاکٹر برائڈن جلال آباد کے راستے چھ روز بعد زندہ نکل پائے

اس وقت کٹھ پتلی حکومت کے سربراہ شاہ شجاع تھے اور اب حامد کرزئی ہیں اور دونوں ہی کا تعلق پوپلزئی قبیلے سے ہے۔ اور مخالفین اس وقت غلزئی قبیلے سے تھے اور طالبان کے جنگجوؤں کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔

یہ بات بالکل درست نہیں ہے کہ افغانستان پر غلبہ حاصل کرنا ناممکن ہے۔ اس سے قبل کئی سلطنتوں نے فتح حاصل کی ہوئی ہے جن میں سکندرِ اعظم، منگول، مغل اور قاجار شامل ہیں۔

لیکن معاشی طور ھر کسی کو کوئی دائدہ نہیں ہوا۔ 1839 میں اس وقت کے امیر نے برطانوی فوج سے کہا تھا ’یہ سرزمین صرف پتھروں اور مردوں کی ہے‘۔

اکتوبر 1963 میں جب ہیرلڈ میکملن حکومت وزیر اعظم ایلک ڈگلس کے سپرد کر رہے تھے تو انہوں نے ایلک ڈگلس کو ایک مشورہ دیا۔ ’جب تک تم افغانستان پر حملہ نہیں کرتے تب تک تمہیں حکومت کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔‘

اسی بارے میں