ٹکٹ ملنے پر رہنما ناراض

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نریندر مودی وزیر اعظم بنیں گے یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن بہت سے ریٹائرڈ افسران کو شاید یقین ہے کہ پی ایم بننے کے لیے مودی کو بس اب صرف حلف لینا باقی ہے

الیکشن کی گرمی میں سیاستدانوں سے غلط فیصلے ہو ہی جاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی سابق سرکاری افسر کوئی غیر معمولی یا غیر متوقع قدم اٹھائے تو تمام باریکیوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا جانا چاہیے۔

اس کی سب سے شاندار مثال مدھیہ پردیش میں کانگریس پارٹی کے لیڈر بھگیرتھ پرساد نے پیش کی ہے۔ وہ سابق بیوروکریٹ ہیں لہٰذا یہ مان کر چلیے کہ نہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرتے ہوں گے اور نہ کبھی کوئی ایسا قدم ا ٹھائیں گے جو خود ان کے لیے نقصاندہ ثابت ہو۔ سرکاری افسروں کو شاید اسی کام کی تربیت دی جاتی ہے۔

ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے دو ہزار نو میں مدھیہ پردیش سے لوک سبھا کا الیکشن لڑا تھا لیکن ہار گئے۔

اس مرتبہ بھی وہ کانگریس کے ٹکٹ کے امیدوار تھے اور پارٹی نے اپنی پہلی فہرست میں ہی ان کے نام کا اعلان بھی کر دیا۔ لیکن اس بار ٹکٹ ملنے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر انہوں نےکانگریس سے استعفیٰ دے کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کردیا!

سیاست میں یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں کہ رہنما کوئی عہدہ نہ ملنے یا ٹکٹ سے محروم رکھے جانے پر ناراض ہوکر پالا بدل لیتے ہیں لیکن ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں شاید یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی لیڈر نے ٹکٹ ملنے کی وجہ سے پارٹی چھوڑی ہو!

یہ تو بالکل ایسے ہے جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ کانگریس نے مجھے ٹکٹ کیوں دیا، لوگ سنیں گے تو کیا کہیں گے!

ملک کو بدلنے کی امید

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بی جے پی کی آئندہ انتخابات میں فتح متوقع ہے

نریندر مودی وزیر اعظم بنیں گے یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن حکومت، فوج، پولیس اور انٹلیجنس ایجنسیوں سے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے بہت سے افسران کو شاید یقین ہے کہ پی ایم بننے کے لیے مودی کو بس اب صرف حلف لینا باقی ہے۔

فوج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں اور کھل کر یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ ادھر انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ سنجیو ترپاٹھی بھی اب ملک میں تبدیلی کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے انہوں نے بھی بی جے پی کا رخ کیا ہے۔

سابق داخلہ سیکریٹری آر کے سنگھ، ملک کی پہلی خاتون پولیس افسر کرن بیدی، ممبئی پولیس کے سابق کمشنر ستیہ پال سنگھ، پیٹرولیم کے سابق سیکریٹری آر ایس پانڈے، اقوام متحدہ میں انڈیا کے سابق مستقل مندوب ہردیپ سنگھ پوری، اب سب ملک کو بدلنے کی جلدی میں ہیں اور اس کے لیے انھیں بی جے پی کا رخ کرنا پڑا ہے۔۔۔ فہرست لمبی ہے لیکن کام بھی مشکل ہے۔

ملک بدلنے کے لیے ہی شاید بھگیرتھ پرساد کو پارٹی بدلنی پڑی ہوگی کیونکہ جب سے ہندوستان میں عام آدمی پارٹی نے قدم جمانے شروع کیے ہیں، اب اپنے لیے تو کوئی کچھ نہیں کرتا۔ اور قوم کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے، کم ہے۔

سیاست میں تو یہ چلتا رہتا ہے، کوئی فکر کی بات نہیں۔ لیکن تشویش بس اس بات پر ہے کہ جنرل وی کے سنگھ کو اگر کوئی عہدہ مل گیا تو وہ کہیں پھر اپنی تاریخ پیدائش بدلوانے کی کوشش شروع نہ کردیں! صرف ایک سال عمر کم کروانے کے لیے وہ حکومت کو سپریم کورٹ تک لے گئے تھے، وہ بھی ریٹائر ہونے سے پہلے۔

لیکن دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جب پورا ملک ہی بدلنے کی تیاری ہے تو تاریخ پیدائش کیا چیز ہے؟

پاسوان بھی بدل گئے

جب سب کچھ بدل رہا ہے تو رام ولاس پاسوان ہی کیوں پیچھے رہتے۔ وہ دلتوں کے رہنما ہیں، ایسے طبقات کی نمائندگی کرتے ہیں جنھیں صدیوں تک ہندو معاشرے میں اچھوت مانا جاتا تھا۔

دو ہزار دو میں وہ وفاقی وزیر تھے لیکن جب گجرات میں مذہبی فسادات ہوئے تو انہوں نے احتجاج میں اٹل بہاری واجپائی کی حکومت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ 12 سال تک وہ نریندر مودی کو ’اچھوت’ مانتے رہے، لیکن اب انھوں نے بھی مودی کی انگلی پکڑ لی ہے اور بی جے پی نے خوشی سے ان کے لیے بہار میں سات سیٹیں چھوڑ دی ہیں۔

پاسوان خود کو سیکولرزم کا الم بردار مانتے ہیں، وہ بدل سکتے ہیں تو کچھ بھی بدل سکتا ہے، ملک بھی! پہلے بہت سے لوگ یہ سوچ کر پریشان تھے کہ مودی وزیر اعظم بن گئے تو کیا ہوگا اب شاید یہ سوچ کر پریشان ہوں گے کہ جب اتنا سب کچھ بدل رہا ہے، اگر وہ نہیں بنے تو کیا ہوگا!

اسی بارے میں